Create New List
Share with your friends
Customize readability

نصیب کے فاصلے

All Rights Reserved ©

Summary

یہ کہانی زینیہ کی ہے زینیہ اپنےوالدین کی اکلوتی بیٹی تھی بی جان کےدل کا ٹکڑا تھی بی جان کےدوبیٹے تھےاحمدشاہ اورعلی شاہ ان کےوالد معزز شخص تھے گاؤں میں ان کی بہت عزت تھی احمداورعلینہ کی بیٹی کا نام زینیہ تھا عمر 4سال اور علی رانیہ کے دو بیٹے جن کا نام اذلین جو5سال کاتھااورذوحان جو2سال کاتھا ایک دن اخترصاحب اپنے پوتیوں اور پوتی کو باہرلےکر آ ئے تھے ان کو کھیلتے دیکھا کر وہ مسکرائے کہ ایک بزرگ ان کے پاس آ کر بیٹھ اور کہا تیری پوتی کا نصیب بار عجیب ہے اس کو اپنوں کا ساتھ کم ملے گا بہت سی مشکلات کا سامنا بھی کرنا پڑے گا لیکن ایک وقت ایسا آئے گا جب یہ پر سکون ہو گئی اور زندگی اچھی لگے گی آختر صاحب حوالی واپس آئے روبی نے ان کے چھرےسے پریشان ہو نے کی وجہ پوچھی تو انہوں نے ساری بات بتائی پھر رات کے کھانے پر سب کواکھٹاہونے کو کہاکھانےکےبعداخترنےبات شروع کی کےمیں چاہتا ہوں تم لوگ اس حوالی کو ہمیشہ آباد رکھوں اسی وجہ سے میرااور روبی کا فیصلہ ہےکہ احمدتم اپنی بیٹی اور علی تم اپنے بیٹے کا رشتہ آ پس میں طےکردوں دونوں بھائی والدین کے احترام میں خاموش رہے اور ہاں کر دی رانیہ کو یہ بات ناگوار گزری تھی کچھ دونوں بعد اختر کا انتقال ہوگیااوررانیہ کواپنی منزل آسان نظر آ نے لگی اور وہ کامیاب بھی ہوگی علی کو شہر لےجانےکے لیےعلی نےاپنےنام پرتمام جائیداد بیچ دی اورحوالی کے حصے کے پیسےاحمدسےلیےتھےروبی کوجب پتہ چلا تو وہ غصےسے لال ہوئی اوربولی اب زندگی میں کبھی شکل نہ دیکھنا کھبی ملے بھی توراستہ بدل لیناان کو جاتےہوئےوہ اذلین کوپیاربھری نظروں سے دیکھارہی تھی ۔اب دیکھنایہ ہےکہ زینیہ کی زندگی میں کیاہوگا؟

Status
3d ago
Chapters
3
Rating
n/a
Age Rating
16+

CHAPTER 1

زینیہ ابھی تک اپنےکمرے میں سو رہی تھی سیرت جاکر اس کو اٹھایا نا شتہ کا وقت گزر گیا تھا اتوار کے دن زینیہ اپنی مرضی سے اٹھاتی تھی آ جااس نے شوپنگ پر جانا ہے بلاوجہ کہیےگی مجھے کیسی نے اٹھایا کیوں نہیں تھا جی فاطمہ ابھی میں جا تی ہوں زینیہ بی اٹھاجاآ پ نے ابھی ناشتہ بھی نہیں کیا 11:00بجنےوالےہیں آپ کو پتا ہے نہ اماں جی ناشتہ کے بغیر باہر نہیں جا نے دیتی ہے اماں جی نے صبح سے دو بار آپ کا پوچھا لیے ہے زینیہ کو ابھی تک کچھ پتا نہیں تھا سیرت نےکھٹرکی سے پردہ ہٹا تےہوئے آخری الفاظ ادا کیے 11:00بج گئے ہیں زینیہ کیا گیارہ بج گئے آج تو پکا ہانیہ میری جان نکل گئی اس وقت میں نے اس کے گھر ہونے کا کہاں تھا آپ ناشتہ لیے آو میں تب تک تیار ہو جاتی ہوں ناشتہ کے بعد زینیہ سیڑھوں اُتارتے ہوئے بی جان سے اسلام علیکم بی جان نے اسلام کے جواب میں وعلیکم السلام ورحمتہ اللہ وبرکاتہ ہو کہا پھر بولی اتنی لیٹ اٹھائی ہوں آپ کو تو پتا ایک دن میرا ہوتا ہے پورے ہفتہ میں جو میں اپنے لیے گزارتی ہوں مجھے تھوڑی جلدی میں ہوں ہانیہ اور میں نے مری جانے کے لیے شوپنگ پر جانا ہے ہانیہ ماماکےکنیزہ بھائی کی بیٹی تھی اور میری بچپن کی دوست ہے پہلے ان کا گھر ہمارے قریب تھا لیکن ماموں کے کام کے سلسلے کی وجہ سے انھوں گھر بدل لیا تھا لیکن ہم دونوں سکول بھی ساتھ گئی اور اب کالج بھی ساتھ ہے یہاں تک کہ میٹرک کے امتحان میں نمبر بھی ایک جیسے لے کر سب کو احیران کیا تھا۔ہفتہ کی رات دیر سے سونے کی وجہ سے میں صبح فجر کی نماز کے بعد کچھ وقت قرآن مجید کی تلاوت کر کے دوبارہ سو گی تھی تقریباً ایک گھنٹے بیس منٹ کے بعد وہ اس کے گھر کے سامنے تھی اور اندار جانے کے بارے میں سوچ رہی تھی جاؤ کہ نہ جاؤ کیونکہ وہ بہت غصے میں ہوگی اتنے میں اس کے چھوٹے بھائی روحان نےمجھےدیکھ لیا تھا میں گھر میں داخل ہوئی اور اس سے اس کے بارے میں اشارہ سے پوچھا تو روحان بولا آپ کو تو پتا ہی ہے جب غصے میں ہی ہوتی ہے تو کون سی جگہ پر ہو تے تی ہے ohhh acha پھر روحان بولا وش روم میں ویسے تم بہت بغیرت ہو اب مجھے بغیرت تونہ کو سچ بولنا اچھی بات ہوتی ہے اسی وجہ سے اب آپ بھی جا کر سچ بولنا شروع کر دیں وہ کمرے تک کہتی ہوئی گئی کہا ہو مانو میری پیاری مانو میری جان کہا ہو لیکن آ گئے سے کوئی جواب نہیں ملا زینیہ بولی تم جانتی ہوں میں ہفتہ کو دیر سے سوتی ہوں بس اسی وجہ سے لیٹ ہوگئی مان جاؤ اتنے میں روحان آ یا اور بولا دیکھ لوں کہی صابن یا سرف کھا کر خود کشی نہ کر لی ہو وہ دونوں مسکرائے پھر زینیہ بولی آج میں تمہاری طرف ہی روکوں گئی وعدہ کرتی ہوں جبکہ تم جانتی ہو بابا ماما کو دیکھ بغیر مجھے نیند نہیں آتی لیکن میں تمہاری طرف روکوں گئی اور آج کا dinner بھی میری طرف سے ہو گااندار سے آ وازآئی میں لالچی نہیں ہوں اچھا okay میری پیاری مانو sorry 😔 please 🥺 اب مان جاؤ دروازے کھولتے ہوئے بولی میں بھوکی نہیں ہوا زینیہ بولی مجھے پتہ ہے تم کیسی ہو توسب پھر سب مل کر مسکرائے روحان گاڑی نکل ہم بھی آتے ہیں اچھا مانو تجھے پتا ہے روحان کیا بول رہا تھا جب تم غصے میں ہوتی ہوں تو خود کو وش روم میں بند کر لیتی ہوں اور کچھ بولتی بھی نہیں ہوں۔گاڑی میں بیٹھے ہوئے روحان ایسی بات ہے نہ تو پوری گاڑی میں قہقہوں کی آوازیں گونجی تھی شوپنگ کرنے کے بعد انہوں نے ریسونٹ سے کھانا کھایا payment ka lie bill آیا تو ہانیہ بولی payment روحان نہیں Z دے گی زینیہ بولی یہ کب بات ہوئی تھی مانو بولی تم نے sorry 😔سے پہلے کیا کہا تھا زینیہ بولی میڈم جی آپ کو پتا ہے آپ نے کیا کہا تھا میں لالچی نہیں ہوں اب waiter ان دونوں کی طرف دیکھا رہا تھا اتنے میں روحان نے payment کردی اور دونوں کو پتا ہی نہیں لڑانے میں مصروف تھیں روحان مسکراتا ہوئے بولا ان کی لڑائی کوئی ختم نہیں کرواسکتا۔جب تک یہ خود نہ ختم کر لے ان کا کچھ نہیں ہوسکتا۔اتنے میں روحان نے ان دونوں کا بھی کیک کھا لیا جانے کے لیے چابی پکڑی اور دونوں کو جانے کے لیے کہازینیہ نے اپنے bagسے پیسے نکل کر ویٹر کو آواز دی تو ویٹر نے کہا payment ہوگی کب روحان بولا جب تم دونوں لڑانے میں مصروف تھی مانو بولی آج کا dinner تو Zکی طرف سے تھا روحان کہا it's okay پھر کھبی سہی چلوں دونوں کی مل کر آواز آئی ہم نے تو ابھی کیک کھانا ہے پھر چلتے ہیں جب پلیٹ میں دیکھا تو کچھ بھی نہ تھا دونوں بولی کیک کہا گیا تو روحان بولا جب آپ دونوں لڑائی کر رہی تھی تو میں فارگ تھا سوچا کیک کھا لو بس مانو بولی دیکھا لوں تم کتنے بغیر ت ہوں روحان بولا مجھے بغیرت بنا اچھا لگتا ہے پتا نہیں دنیا میں اتنی زیادہ گالیاں ہے لیکن آپ لوگ بغیرت ہی کیوں کہتی ہیں وہ دونوں مسکرائی اور باہر جاتے ہوئے بولی ہمارا ایک ہی تو بغیرت بھائی ہے پھر روحان بولا میں نے کسی دن امی ابو اور پھوپھو اور شاہ جی کو بتا دینا ہے پھر یہ نہ کہنا بتایا نہیں تھا آپ دونوں مجھے بغیرت کہتی ہوں ohhh acha کوشش کر کہ دیکھا لوں کوئی نہیں پھر ہم بھی بتادے گئے تم ایک کتاب میں 👀 Failہوئے تھے لیکن ہم نے آ پ جناب کو مار سے بچایا تھا جھوٹ بول کر ہم نے تمہاری تیاری بھی کروائی تھی ہرPTMمیں ہم دونوں گئی تھی یہ کہتے ہوئے ہمارا ایک ہی چھوٹا بھائی ہے اس کی ذمہ داری ہماری ہے تو سب ہسنتے تھے یہ دونوں تو خود ابھی چھوٹی ہے تو پھر میں مانو کو چوٹخی کاٹی اور وہ رونا شروع کر دیتی اور پھر سب مان جاتے تھے اب تم سوچ لوں دونوں کو sorry 😔کہنا ہے اور 🍦کھالنی ہے کہ سب کو بتا نا ہے پھر روحان نے ice cream لی اور بولا ویسے ہے تم لوگ بھر ی black Miller tu black milling شروع کیس نے کی تھی اور sorry 😔 بھی بول گھر آہ گیا تھا ۔ کچھ دیر سب نے آرام کیا پھر مانو نے پوچھا پھوپھو کیسی ہے باقی سب گھر والے کافی دن ہوگئے ہیں سب کو ملے ہوئے ویسے تو سب ٹھیک ہے ویسے بھی تم نے کل جانا ہی ہے تم یہ بتاؤ ماموں اور ممانی نے عمرہ سے کب واپس آنا ہے ابھی پندرہ پچیس دن لگ جانے ہیں چاچو اور خالہ کی طرف جانا ہے سہی زینیہ کو فون آگیا اٹھایا اور کہا ماما آج کا دن بہت مصروف تھا ہم نے بہت مزا کیا اور شوپنگ بھی کی ۔سہی۔بی جان کیسی ہے سو گی ۔جی۔ اور بابا واپس آگئے ہیں ۔ابھی نہیں بیٹا دیھان سے رہنا۔جی۔الللہ حافظ۔

زینیہ اور مانو نے روحان کی پیکنگ کی، کیونکہ کچھ دنوں کے لیے روحان نے زینیہ کے گھر رہنے کے لیے جانا تھا۔

پیکنگ کرنے کے بعد زینیہ نے اپنے بابا سے بات کی۔ بات ختم ہونے کے بعد انہوں نے مووی دیکھنے کا پلان بنایا۔ مووی بہت زیادہ خوفناک تھی۔ روحان سب سے زیادہ ڈر گیا تھا۔

اسی وجہ سے وہ روتا ہوا ان کے کمرے میں آیا اور کہنے لگا، "مجھے ڈر لگ رہا ہے۔"

مانو اور زینیہ نے مل کر زمین پر چادر بچھائی اور جب تک وہ سو نہیں گیا، اس کے پاس بیٹھی رہیں۔ چھوٹا بھائی تھا، اسی وجہ سے بہت ڈر گیا تھا۔ اس لیے وہ کافی دیر تک اس کے ساتھ بیٹھ کر باتیں کرتی رہیں، جب تک وہ سو نہیں گیا۔

صبح روحان جلدی اٹھ گیا تھا۔ اس نے ان دونوں کو بھی اٹھانے کی کوشش کی، لیکن وہ نہیں اٹھیں۔ روحان کو کوکنگ کا بہت شوق تھا، اسی وجہ سے وہ ناشتہ بنانے کے لیے کچن میں چلا گیا۔

تقریباً نو بجنے والے تھے۔ روحان نے ان دونوں کو دوبارہ جا کر جگایا اور کہا، "نو بج گئے ہیں اور ناشتہ بھی تیار ہے۔"

وہ دونوں فریش ہو کر ناشتہ کرنے کے لیے کچن میں آ گئیں۔ ناشتہ کرنے کے بعد زینیہ اور مانو کو کالج کے کسی کام کی وجہ سے کالج جانا تھا اور اس کے بعد سیدھا زینیہ کے گھر جانا تھا۔

انہوں نے کالج سے کام ختم کرنے کے بعد زینیہ کے گھر گئیں اور وہاں دوپہر کا کھانا کھایا۔

کھانا کھانے کے بعد زینیہ اور مانو نے اپنے ٹرپ پر جانے کے لیے پیکنگ کی۔ اسی طرح وقت گزرتا گیا پھر شام کے کھانے پر دونوں فریش ہو کر گئیں، سب کو سلام کیا اور کھانا شروع کر دیا۔

زینیا نے کہا، "بابا ہم دونوں کی ساری تیاری پوری ہو گئی ہے۔"

کھانا کھانے کے بعد دونوں نے کمرے میں جا کر اچھے سے پڑھائی کی اور روہان کو بھی اپنے پاس بلا لیا۔

پڑھائی کے بعد زینیا نے کہا، "زوہا میری الماری سے کھانے کی چیزیں لا دو، ہم نے مووی دیکھنی ہے اور تم بھی آ جانا، مما کو بتا دینا۔"

مانو بولی، "روہان کو نہیں دکھانی۔"

وہ بولا، "کیوں؟ تم رات کو خود ہی ڈر گئے تھے، جب ہمارے کمرے میں آئے تھےاور زمین پر سو رہےتھے۔"

"نہیں، میں نے بھی دیکھنی ہی ہے مووی۔"

اچھا، "آج تم امّاں بی کے کمرے میں سو جانا۔" زینیہ نے کہا۔

مانو بولی، "ہاں یہ نہ ہو رات کو اتنی بڑی حویلی میں ڈرتے ہوئے امّاں بی کے کمرے میں آ جاؤ۔ ویسے بھی ان کے پیچھے والے راستے میں ایک جن ہوتا ہے، جن کا نام علی بخش ہے، سب کو کچھ نہ کچھ بخش دیتے ہیں۔"

روہان نے کہا، "اس بات کا مطلب؟"

زینیہ جلدی سے بولی، "مانو تم بہت بدتمیز ہو، دادا ابو کے پرانے وفادار ملازم ہیں وہ اور تم ان کے بارے میں ایسا بول رہی ہو، شرم کرو، دادی نے اگر سن لیا تو پھر برا مان جائیں گی۔"

"اچھا بابا۔"

اتنے میں دروازے سے کوئی اندر آتا ہوا نظر آیا تو سب ڈر گئے، سب کو لگا دادی ہیں لیکن وہ تو زوہا تھی، چیزیں لے کر آئی تھی۔ ان لوگوں نے مووی دیکھنی تھی۔

پھر صبح زینیہ نے اٹھ کر نماز پڑھی، کیونکہ اس کو روزےکی بھی عادت تھی اسی وجہ سے اٹھ گئی تھی ، اس کے بعد قرآن پڑھا اور پھر دادی یعنی بی جان کے ساتھ صبح کی سیر کو چلی گئی۔

دادی اکثر چاچو کے بارے میں باتیں کر لیتی تھیں۔ چاچو اور ان کی بیوی دادا ابو کی وفات کے بعد گھر چھوڑ کر چلے گئے تھے کسی وجہ سے۔ بابا اور مما نے بہت روکنے کی کوشش کی لیکن وہ مانے ہی نہیں۔ دادی ویسے تو ان کو اکثر یاد کرتی تھیں لیکن بولتی نہیں تھیں۔

چاچو نے پسند کی شادی کی تھی، سب کو اس بات سے کوئی اعتراض نہ تھا لیکن چاچی نے دادا ابو کی وفات کے بعد دادی سے کہا کہ ہم یہاں پر نہیں رہنا چاہتے، اسی وجہ سے ہمیں ہمارے حصے کی جائیداد دے دی جائے تاکہ ہم آسانی سے باہر جا سکیں۔ چاچو کو اس بات کا علم نہیں تھا۔

اس وقت میں وہاں پر ہی تھی، میں نے سب باتیں سنی تھیں۔

دادی چاچو کے بیٹے ازلان سے بہت پیار کرتی تھیں۔ ہم دونوں ہم عمر تھے، میری اور اس کی بہت لڑائی ہوتی تھی۔ چاچو مجھ سے زیادہ پیار کرتے تھے اور بابا اس سے زیادہ پیار کرتے تھے۔ جب بھی ہم لڑائی کرتے، بابا اذلان کی سائیڈ لیتے اور چاچو میری سائیڈ لیتے۔ چاچو مجھے پیار سے "پری" کہتے اور بابا اذلان کو "میرا گگلو" کہتے تھے اور میں اس کاا مذاق بناتی تھی تو اذلان "گولو" تو اس کو غصہ آ جاتا اور میں اپنے مقصد میں کامیاب ہو جاتی۔

جب میں نے یہ سب کچھ سنا تو مجھے بہت زیادہ رونا آیا، میں اب کس کے ساتھ لڑائی کروں گی، کس کے ساتھ کھیلوں گی۔ دادی نے...

Let zahidmaher075 know what you thought about this chapter!
Love this

0

Love this

Funny

0

Funny

Spicy

0

Spicy

Suspenseful

0

Suspenseful

Emotional

0

Emotional

Profound

0

Profound

Heartwarming

0

Heartwarming

Shocking

0

Shocking

Good Writing

0

Good Writing

Compelling Plot

0

Compelling Plot

Great Character

0

Great Character

Strong Dialog

0

Strong Dialog

Further Recommendations

Nothing Between Us

Lens: I haven’t read a book this good in a years. A phenomenal read. I wish I could experience this again!

Read Now
We Only Fake It on the Weekends

Ashley Pierce: Loved this story!! Awesome work!!

Read Now
Shattered Steel

carolin: Story telling can be an amazing thing. This is one of those. I enjoyed the journey of this story. Our protagonist seeking mental health care so he can love her properly... The author is showing us readers that control is something that needs guidance in understanding and finding the answers of our ...

Read Now
Broken Halos MC

Ashley Pierce: Touching story and great plot

Read Now
Bear Shifter Secrets

Felicia: This is the 2nd book im reading of this writer. And I enjoyed it just as much as the first, Marked while we slept. Worth the read. Very good writer

Read Now
Bound to the Bear

Marie: Omg such a sweet story .. couldn't stop reading such a heart felt journey ♥️

Read Now
Ruthless Lord

Merrell Bunting: Beautiful story, a bit heavy on the spice for me but a really good read.

Read Now
Graves Lost Daughter Book 1 Devils Creek MC

Jazzy Sideris: Had me in tears at times ,but a really good read . Good work

Read Now