Create New List
Share with your friends
Customize readability

وقت کے اُس پار

All Rights Reserved ©

Summary

وقت کے اُس پار — Summary کبھی کبھی ایک دروازہ صرف ایک دروازہ نہیں ہوتا… بلکہ دو دنیاؤں، دو زمانوں اور ایک ایسے راز کے درمیان راستہ ہوتا ہے جسے صدیوں سے چھپایا گیا ہو۔ اسرا کی زندگی ایک عام زندگی تھی، یہاں تک کہ ایک پراسرار دروازہ اس کے سامنے آ گیا۔ ایک ایسی آواز، ایک عجیب سا آئینہ اور بار بار ہونے والے پراسرار واقعات اسے ایک ایسی دنیا کی طرف کھینچنے لگے جہاں ہر چیز اس کی سمجھ سے باہر تھی۔ لیکن سب سے بڑا سوال یہ تھا کہ وہ دروازہ صرف اسرا کو ہی کیوں دکھائی دے رہا تھا؟ دوسری طرف زویار بھی ایک ایسے راز سے جڑا ہوا تھا جس کا تعلق اسرا کی قسمت، اس کے خاندان اور وقت کے ایک بھولے ہوئے باب سے تھا۔ جیسے جیسے اسرا حقیقت کے قریب پہنچتی ہے، اسے احساس ہوتا ہے کہ ماضی میں کیا گیا ایک فیصلہ آج بھی اس کی زندگی کو بدل رہا ہے۔ کیا اسرا اس پراسرار دروازے کے پیچھے چھپی حقیقت جان پائے گی؟ یا پھر وقت کے اُس پار جانے کے بعد واپسی کا راستہ ہمیشہ کے لیے بند ہو جائے گا؟

Genre
Fantasy
Author
maaz khan
Status
Complete
Chapters
19
Rating
5.0 (2 reviews)
Age Rating
16+

وہ دروازہ

باب 1 — وہ دروازہ

رات کے بارہ بجنے میں ابھی کچھ منٹ باقی تھے۔

شہر کی زیادہ تر روشنیاں بجھ چکی تھیں، لیکن اسرا کے کمرے کی کھڑکی سے چاندنی ابھی بھی اندر آ رہی تھی۔ پردے ہوا کے ساتھ آہستہ آہستہ ہل رہے تھے اور کمرے کی دیوار پر چاند کی روشنی عجیب سے نقش بنا رہی تھی۔

اسرا اپنی اسٹڈی ٹیبل پر بیٹھی ایک ڈائری میں کچھ لکھ رہی تھی۔

وہ ان لڑکیوں میں سے نہیں تھی جو ہر بات پر فوراً یقین کر لیتی ہیں۔ اسرا کو سوال کرنے کی عادت تھی۔ اگر کوئی اس سے کہتا کہ آسمان نیلا ہے تو وہ پوچھتی، “کیوں؟” اگر کوئی کہتا کہ کوئی چیز ممکن نہیں، تو اسرا کا اگلا سوال ہوتا، “لیکن کیوں نہیں؟”

اس کی سب سے خاص بات اس کا تجسس تھا۔

وہ خاموش ضرور تھی، مگر کمزور نہیں۔

اکثر لوگ اس کی خاموشی کو شرمیلا پن سمجھتے تھے، جبکہ اصل میں اسرا اپنے آس پاس کی ہر چیز کو غور سے دیکھتی تھی۔ لوگ کیا کہہ رہے ہیں، ان کے چہرے پر کیا لکھا ہے، کس وقت ان کی آواز بدلتی ہے—وہ چھوٹی چھوٹی چیزوں کو بھی محسوس کر لیتی تھی۔

اور اس کی ایک اور عجیب عادت تھی۔

جب بھی اسے کوئی بات سمجھ نہ آتی، وہ اسے اپنی ڈائری میں لکھ لیتی۔

آج بھی اس نے ڈائری میں لکھا:

“کچھ چیزیں صرف اس لیے عجیب نہیں ہوتیں کہ ہم انہیں سمجھ نہیں پاتے۔ شاید وہ اس لیے عجیب ہوتی ہیں کیونکہ ہم ان کے لیے تیار نہیں ہوتے۔”

اسرا نے قلم روک دیا۔

اس نے خود اپنی لکھی ہوئی سطر کو دیکھا اور ہلکی سی مسکراہٹ اس کے چہرے پر آئی۔

“میں بھی نا… کیا کیا سوچتی رہتی ہوں۔”

اس نے ڈائری بند کرنے کے لیے ہاتھ بڑھایا ہی تھا کہ اچانک کمرے کی روشنی جھلملا اٹھی۔

ایک بار۔

دو بار۔

پھر سب کچھ معمول پر آ گیا۔

اسرا نے چھت کی طرف دیکھا۔

“گریٹ۔ اب لائٹ بھی ڈرامہ کرے گی۔”

وہ کرسی سے اٹھی اور کھڑکی بند کرنے کے لیے آگے بڑھی۔

لیکن جیسے ہی اس نے باہر دیکھا، اس کے قدم رک گئے۔

چاند۔

آج چاند کچھ مختلف تھا۔

وہ پورا گول نہیں تھا، لیکن اس کے گرد ہلکی سی نیلی روشنی تھی۔

اسرا نے آنکھیں سکیڑ کر چاند کو دیکھا۔

“یہ… پہلے کبھی ایسا تھا؟”

اسے یاد نہیں تھا۔

اس نے کھڑکی کھول دی۔

ٹھنڈی ہوا اس کے چہرے سے ٹکرائی۔

اور پھر—

ٹَن…

کمرے کی پرانی گھڑی نے پہلی بار آواز کی۔

اسرا نے گھڑی کی طرف دیکھا۔

ٹَن…

دوسری آواز۔

اس کا دل نہ جانے کیوں اچانک تیز دھڑکنے لگا۔

ٹَن…

تیسری آواز۔

اسرا نے گھڑی کو دیکھا۔

12:00۔

اچانک اس کی نظر کمرے کے کونے میں جا رکی۔

وہاں ایک پرانا لکڑی کا دروازہ تھا۔

اسرا نے اسے بچپن سے دیکھا تھا۔

لیکن اس دروازے کے پیچھے کوئی کمرہ نہیں تھا۔

اس کے والد احسن نے ہمیشہ کہا تھا کہ اس دروازے کو کھولنا منع ہے۔

اسرا نے بچپن میں کئی بار پوچھا تھا:

“ابو، اس کے پیچھے کیا ہے؟”

ہر بار احسن کا جواب ایک ہی ہوتا۔

“کچھ نہیں۔”

اور اسرا کو ہمیشہ لگتا تھا کہ اگر پیچھے واقعی کچھ نہیں تھا، تو پھر دروازہ بند کیوں تھا؟

آج پہلی بار اس دروازے کے نیچے سے روشنی آ رہی تھی۔

اسرا آہستہ آہستہ اس کی طرف بڑھی۔

اس کا تجسس اس کے خوف سے زیادہ مضبوط تھا۔

وہ دروازے کے بالکل پاس جا کر رک گئی۔

روشنی نیلے رنگ کی تھی۔

بالکل چاند جیسی۔

اسرا نے ہاتھ ہینڈل کی طرف بڑھایا۔

تبھی—

“اسرا…”

اس کا ہاتھ ہوا میں رک گیا۔

آواز دروازے کے دوسری طرف سے آئی تھی۔

اسرا کا رنگ اڑ گیا۔

“کون ہے؟”

خاموشی۔

اس نے دروازے کے قریب اپنا کان لگایا۔

کچھ نہیں۔

پھر ایک ہلکی سی سرسراہٹ ہوئی۔

اور آواز دوبارہ آئی۔

“اسرا…”

اس بار اس آواز میں عجیب سی اداسی تھی۔

جیسے کوئی اسے بہت عرصے سے جانتا ہو۔

اسرا ایک قدم پیچھے ہٹی۔

“یہ ممکن نہیں ہے…”

اس نے خود کو سمجھایا۔

“شاید میں زیادہ سوچ رہی ہوں۔”

پھر دروازے کے دوسری طرف سے ہلکی سی دستک ہوئی۔

ٹھک۔

اسرا جم گئی۔

ٹھک۔

اس بار کچھ زیادہ زور سے۔

اسرا کی سانسیں تیز ہو گئیں۔

اس نے ہینڈل کو دیکھا۔

اور پھر—

“اسرا!”

پیچھے سے اس کی ماں ماہِرہ کی آواز آئی۔

اسرا گھبرا کر پلٹی۔

ماہِرہ کمرے کے دروازے پر کھڑی تھیں۔

ان کی نظر پہلے اسرا پر گئی، پھر اس پرانے دروازے پر۔

ان کا چہرہ ایک دم بدل گیا۔

“اسرا، تم وہاں کیا کر رہی ہو؟”

“امی… میں…”

ماہِرہ فوراً اس کے پاس آئیں اور اس کا ہاتھ پکڑ لیا۔

“اس دروازے کے پاس دوبارہ مت جانا۔”

اسرا نے حیرانی سے انہیں دیکھا۔

“لیکن امی، اس کے اندر سے کسی نے میرا نام پکارا۔”

ماہِرہ کی انگلیاں اسرا کے ہاتھ پر اور مضبوط ہو گئیں۔

“کسی نے نہیں پکارا۔”

“مگر میں نے سنا—”

“اسرا!”

ماہِرہ کی آواز میں اتنا خوف تھا کہ اسرا خاموش ہو گئی۔

ماہِرہ نے دروازے کی طرف دیکھا۔

کچھ لمحوں تک وہ بس اسے دیکھتی رہیں۔

پھر دھیمی آواز میں بولیں،

“اس دروازے کو تمہارے ابو نے تم سے دور رکھنے کی وجہ سے بند کیا ہے۔”

“کیوں؟”

ماہِرہ نے جواب نہیں دیا۔

“امی، پلیز۔ مجھے سچ بتائیں۔”

ماہِرہ نے اس کی آنکھوں میں دیکھا۔

ان کے چہرے پر ایک ایسا راز تھا جسے اسرا سمجھ نہیں پا رہی تھی۔

“ہر سچ ہر وقت جاننا ضروری نہیں ہوتا۔”

یہ کہہ کر ماہِرہ نے اسرا کو کمرے سے باہر لے جانا شروع کر دیا۔

اسرا نے جاتے جاتے ایک بار پھر دروازے کی طرف دیکھا۔

دروازہ بند تھا۔

لیکن اس کے نیچے کی نیلی روشنی اب بھی موجود تھی۔


اسی وقت شہر کے دوسرے کونے میں ایک پرانی حویلی کی دوسری منزل پر زویار اپنے کمرے میں کھڑا تھا۔

زویار اسرا سے بالکل مختلف تھا۔

وہ زیادہ بات نہیں کرتا تھا۔

اس کی آنکھوں میں ہمیشہ ایک عجیب سی سنجیدگی رہتی تھی، جیسے وہ اپنی عمر سے کہیں زیادہ چیزیں دیکھ چکا ہو۔

وہ لوگوں پر جلدی بھروسہ نہیں کرتا تھا۔

اس کے والد فرید اکثر کہتے تھے کہ زویار بچپن سے ہی عجیب تھا۔

باقی بچے اندھیرے سے ڈرتے تھے۔

زویار اندھیرے کو دیکھتا تھا۔

جیسے اسے اندھیرے میں بھی کچھ نظر آتا ہو۔

آج رات وہ اپنے ڈیسک کے سامنے کھڑا ایک پرانی کتاب دیکھ رہا تھا۔

کتاب اسے اس کے کمرے میں ملی تھی۔

نہ کسی شیلف پر۔

نہ کسی دراز میں۔

بس اس کی اسٹڈی ٹیبل پر رکھی ہوئی۔

اس پر کوئی عنوان نہیں تھا۔

صرف ایک نشان تھا—

ایک چاند، اور چاند کے اندر ایک بند آنکھ۔

زویار نے کتاب کھولی۔

پہلے صفحات خالی تھے۔

دوسرے بھی۔

تیسرے بھی۔

پھر اچانک درمیان کا ایک صفحہ خود بخود پلٹ گیا۔

زویار کی آنکھیں سکڑ گئیں۔

صفحے پر ایک جملہ لکھا تھا:

“جب نیلا چاند آسمان پر آئے، وقت اپنا راستہ بدل دے گا۔”

زویار نے وہ جملہ دو بار پڑھا۔

“یہ کس نے لکھا ہے؟”

تبھی اس کے کمرے کا دروازہ کھلا۔

فرید اندر آئے۔

ان کی نظر کتاب پر پڑی۔

اور وہ وہیں رک گئے۔

ان کا چہرہ سفید پڑ گیا۔

“یہ تمہیں کہاں سے ملی؟”

“یہیں تھی۔”

فرید نے فوراً کتاب اس کے ہاتھ سے لے لی۔

“اسے دوبارہ مت کھولنا۔”

“ابو، کیوں؟”

فرید نے کتاب بند کر دی۔

“بس۔”

زویار نے ان کا ہاتھ روک لیا۔

“نہیں۔ آپ مجھ سے کچھ چھپا رہے ہیں۔”

فرید نے اس کی طرف دیکھا۔

کچھ لمحوں تک دونوں کے درمیان خاموشی رہی۔

پھر فرید نے کہا،

“بیس سال پہلے ایک واقعہ ہوا تھا۔”

“کیسا واقعہ؟”

“جس کے بعد ہم نے ایک وعدہ کیا تھا۔”

“کس سے؟”

فرید کی آنکھوں میں خوف ابھر آیا۔

“خود وقت سے۔”

زویار نے کچھ کہنے کے لیے منہ کھولا، مگر اسی وقت کتاب فرید کے ہاتھ میں ہلنے لگی۔

صفحات اپنے آپ پلٹنے لگے۔

ایک۔

دو۔

تین۔

پھر کتاب ایک صفحے پر رک گئی۔

زویار اور فرید دونوں نے نیچے دیکھا۔

صفحے پر دو نام لکھے تھے۔

اسرا

زویار

زویار کا چہرہ بدل گیا۔

“اسرا کون ہے؟”

فرید نے جواب نہیں دیا۔

کتاب کے نیچے ایک اور جملہ ابھر رہا تھا۔

جیسے کسی انجان ہاتھ سے سیاہی ابھی ابھی لکھی جا رہی ہو۔

“ان کی ملاقات پہلے بھی ہو چکی ہے۔”

زویار نے حیرانی سے اپنے والد کو دیکھا۔

“اس کا کیا مطلب ہے؟”

فرید نے آہستہ سے کہا،

“جو تم جانتے ہو، وہ تمہاری زندگی کا صرف آدھا حصہ ہے۔”

“باقی آدھا؟”

فرید نے کھڑکی کی طرف دیکھا۔

باہر وہی نیلا چاند چمک رہا تھا۔

“باقی آدھا… اب شروع ہونے والا ہے۔”


اسرا اپنے کمرے میں واپس آ چکی تھی۔

ماہِرہ جا چکی تھیں۔

اسرا بیڈ پر بیٹھی تھی، مگر اس کا دماغ اب بھی اس دروازے کے پاس تھا۔

اس نے اپنی ڈائری اٹھائی۔

کچھ لکھنے کے لیے قلم اٹھایا۔

پھر رک گئی۔

اسے سمجھ نہیں آ رہا تھا کہ جو کچھ ہوا تھا، اسے الفاظ میں کیسے لکھے۔

آخر اس نے صرف اتنا لکھا:

“آج رات کسی نے میرا نام پکارا۔”

وہ ڈائری بند کرنے والی تھی کہ ایک آواز سنائی دی۔

ٹھک۔

اسرا نے آہستہ سے سر اٹھایا۔

اس کی نظر دروازے پر گئی۔

وہ دوبارہ بند تھا۔

ٹھک۔

اس بار آواز اندر سے نہیں…

ڈائری کے نیچے سے آئی تھی۔

اسرا نے ڈائری اٹھائی۔

نیچے ایک چھوٹا سا پرانا چاندی کا لاکٹ پڑا تھا۔

اس نے اسے پہلے کبھی نہیں دیکھا تھا۔

اس پر وہی نشان بنا تھا—

چاند کے اندر ایک بند آنکھ۔

اسرا کی سانسیں رک گئیں۔

اس نے لاکٹ کو ہاتھ میں لیا۔

جیسے ہی اس کی انگلی لاکٹ سے چھوئی—

کمرے کی ساری روشنیاں بند ہو گئیں۔

اندھیرے میں صرف لاکٹ نیلی روشنی سے چمکنے لگا۔

اور پھر…

دروازے کے پیچھے سے وہی آواز آئی۔

لیکن اس بار آواز صرف اسرا کو نہیں بلا رہی تھی۔

“اسرا…”

ایک لمحہ خاموشی۔

پھر آواز نے دوسرا نام لیا۔

“زویار…”

اسرا کی آنکھیں پھیل گئیں۔

وہ زویار کو جانتی تک نہیں تھی۔

پھر دروازے پر خود بخود ایک نشان ابھر آیا۔

اور دروازہ…

آہستہ آہستہ کھلنے لگا۔

اس کے پیچھے کوئی کمرہ نہیں تھا۔

وہاں ایک لمبی، روشن راہ تھی۔

اور اس راہ کے دوسرے سرے پر—

ایک لڑکا کھڑا تھا۔

اس کی آنکھیں اسرا پر جمی ہوئی تھیں۔

اسرا نے اسے پہلی بار دیکھا۔

لیکن اس لڑکے کے چہرے پر ایسی پہچان تھی…

جیسے وہ اسرا کا انتظار سالوں سے نہیں، صدیوں سے کر رہا ہو۔

اور پھر اس نے کہا—

“تم بہت دیر سے آئی ہو، اسرا۔”

Let maaz khan know what you thought about this chapter!
Love this

0

Love this

Funny

0

Funny

Spicy

0

Spicy

Suspenseful

1

Suspenseful

Emotional

0

Emotional

Profound

0

Profound

Heartwarming

0

Heartwarming

Shocking

0

Shocking

Good Writing

0

Good Writing

Compelling Plot

0

Compelling Plot

Great Character

0

Great Character

Strong Dialog

0

Strong Dialog

View 4 previous comments…
author

thanks

11 days
author

Not just a story, but a beautiful reflection of your imagination. ❤️impressive, Keep shining and keep writing!🌸

11 days
1
author

thank you for your motivational support

11 days

Further Recommendations

The Orc's Pet

JyotiRekha: Great plot Describe the life of orcos moe

Read Now
The Moon's Weapon : the cursed mate [ MOVING TO GALATEA]

Cynical Optimist : You can never go wrong with a B. E. Harmel story.The plot is intriguing and the protagonists are mature and sensible.I was a little disappointed with the stylized writing. Harmel, a gifted storyteller easily draws the reader in by creating characters thatbwe can connect with emotionally. Hwre, she...

Read Now
The Ashen Sisters Book 1: Ivy & Rowan

AngieB05: I loved this story. I am waiting for the reunion of all three sisters. And I hope Rose is and stays as feisty and strong as Ivy has spoken of her.

Read Now
My Horny Alien

vj218: HelloI just finished reading your recent plot. You have such a great way of telling a story that you really get lost in it and genuinely enjoy reading. By the way when do you think you’ll post your next plot?

Read Now
Alpha’s Claim

11busywoman: Happy ending, strength of love, trust, bond

Read Now
Burn for Me

brendamillsemail: Enjoyed from start to finish well rounded characters pleasure to read

Read Now
No scent

Ashley: Adorable just rushed

Read Now
His Unexpected Luna

lblomme: I love all the twists and turns and still a happy ending! Good strong characters, a big heart, and hope. Very well written, full characters, and great imagination!

Read Now
RSVP: Werewolf

Laura: A lighthearted and entertaining story. Well done! 🩷

Read Now