1 : قسط
(استنبول)
وہ ساحل سمندر پر ايک اونچی پہاڑی پر کھڑی تھی۔ رات کے گيارہ بجے تھے اور وہ وقت کی پرواہ کیے بغیر اپنی سوچوں میں ڈوبی تھی۔ اس کا دل خون کے آنسو رو رہا تھا اور وہ خود سے کہ رہی تھی:
″ میرا نام سیودا ہے اور میں اس وقت اپنی زندگی میں ہونے والے اس دردناک واقع سے پردہ اٹھا چکی ہوں جس سے میں اتنے عرصے سے ناآشنا تھی۔″
اس نے ایک دردناک چیخ ماری اور پھوٹ پھوٹ کر رونے لگی۔ وہ اچانک اٹھی اور سمندر میں چھلانگ مارنے لگی تھی کہ یکایک ایک انجان شخص نے اس کو پیچھے سے پکڑا اور اپنی طرف کھینچتے ہوۓ بچا لیا۔ اور پاس ایک بنچ پر بٹھا دیا۔
سیودا (روتے ہوۓ):
″تم کون ہو؟ اور مجھے ہاتھ لگانے کی ہمت کیسے کی؟ میں سمندر کی گہرائيوں میں ہمیشہ کے لیے سکون کی نیند سونے جا رہی تھی۔″
اس شخص نے اسے گھورا اور بغیر کوئی جواب دیے وہاں سے چلا گیا۔ تھوڑی دور جانے کے بعد وہ رات کی تاریکی میں غائب ہو گیا۔
وہ اس سنسان جگہ پر بیٹھی اپنی قسمت کو قوس رہی تھی کہ اچانک تیز بارش شروع ہو گئ۔ اس نے اپنی دوست کو کال ملائی۔
سیودا:
″علینا! دیکھو یہ آسمان بھی میری طرح غم زدہ ہے اور آنسو بہا رہا ہے۔″
علینا:
″سیودا تم یہ کیسی باتیں کر رہی ہو اور کہاں پر ہو؟ میں تمہیں ابھی لینے آرہی ہوں۔″
بادل زوروں سے گرجا، بجلی کڑکی اور علینا پریشان ہو گئ۔
علینا:
″خدارا! کچھ کہو تو سہی۔ میرا دل پریشانی سے ڈوبا جا رہا ہے۔
تم کہاں پر ہو میں ابھی آ رہی ہوں۔″
سیودا:
″سمندر۔۔۔۔۔ سمندر۔۔۔۔۔″
فون بند ہو گیا۔ علینا سیودا کو اپنے گھر لے آئی اور اس نے بیڈ روم میں داخل ہوتے ہی سیودا کو بیڈ پر بٹھا کر اسے ایک گرم چادر اوڑھا دی۔
علینا:
″تم آرام کرو۔ میں ابھی گرم سوپ بنا کر لاتی ہوں۔″
سوپ پینے کے بعد سیودا نے کپڑے بدلے اور بستر میں لیٹ گئ اور سوچتے سوچتے گہری نیند سو گئ۔ناشتے پر علینا نے رات والے واقعے کے بارے میں پوچھا اور سیودا کے چہرے کے تاثرات بدل گۓ۔
سیودا:
″علینا۔۔۔ میں ابھی اس حالت میں نہیں کہ تمہیں رات کو رونما ہونے والے واقعے کے بارے میں بتا سکوں۔″
علینا کے بہت زیادہ اسرار پر۔
سیودا:
″تو سنو پھر۔۔۔۔۔ میرے چچا کے اسٹڈی روم میں کسی کو بھی داخل ہونے کی اجازت نہ تھی اور وہ کل چچی کے ساتھ دو ون کے لیے شہر سے باہر چلے گۓ اور میں اس موقع کا بھرپور فائدہ اٹھاتے ہوۓ اسٹڈی روم میں داخل ہوئی صرف یہ دیکھنے کے لیے کہ وہاں ایسا کیا خاص ہے تو وہاں مجھے کچھ کتابوں کا معائنہ کرتے ہوۓ ایک یو۔ایس۔بی ملی اور پاس رکھے لیپ ٹاپ میں اسے لگانے کے بعد مجھے ایک ریکارڈنگ ملی جس میں چچا نے صرف کاروبار اور جائداد حاصل کرنے کے لیے میرے ماں باپ کو جان سے مارنے کا پلین بنایا تھا اور اس مقصد کے لیے کسی اجنبی شخص کو بھاری رقم بھی دی گئ تھی۔″
علینا:
″کیا واقعی تم نے یہ سب اپنی آنکھوں سے دیکھا تھا؟″
سیودا:
″مجھے لگتا تھا کہ صرف چچی ہی مجھ سے نفرت کے باعث
مجھ پر ظلم کرتی ہیں اور چچا کی یہ محبت میرے ساتھ ان سے برداشت نہیں ہوتی مگر افسوس کہ چچا کے اصل چہرے سے تو میں واقف ہی نہ تھی اور وہاں تلاشی کے دوران مجھے کچھ فائلز ملیں جن کے تحت اب وہ کاروبار اور جائداد چچا کے نام ہیں اور وہ اس کاروبار کو خوب ہوشیادی سے چلا رہے ہیں۔۔۔۔
لیکن میں نے اب وہ گھر چھوڑ دیا اور اب میں ان کو خون کے آنسو رلاؤں گی اور انہیں تڑپا تڑپا کر ان سے ایسا بدلہ لوں گی کہ یہ ساری زندگی مجھے بھول نہ پائیں گے۔″
سیودا کی آنکھوں میں آنسو آ گۓ اور علینا نے اسے تسّلی دی۔
سیودا:
″دو دن پہلے جہاں سے مجھے نوکری کی آفر ہوئی تھی وہاں انٹرویو دینے جا رہی ہوں۔″
علینا اور سیودا تیار ہوئيں اور علینا اس کو انٹرویو کے لیے چھوڑ کر اپنی نوکری پر چلی گئ۔سیودا کا انٹرویو بہت ہی شاندار رہا اور اسے نوکری مل گئ۔ شام کو سیودا نے اپنی دوست کو گھر میں خوش دلّی سے خوش آمدید کہا۔ علینا گھر میں داخل ہوتے ہی چونک گئ۔
علینا:
″کیا یہ سب ڈنّر تم نے بنایا ہے؟ بہت شاندار میز سجائی ہے اور کھانا دیکھتے ہی میرے منہ میں پانی آ گیا۔″
سیودا:
″نہیں یہ سب آڈر کیا ہے۔۔۔۔تم گیس کرو آج کیا ہوا ہے؟″
علینا:
″آج تو تمہارا انٹرویو تھا نہ۔۔۔۔۔ اس کا مطلب تمہیں نوکری مل گئ۔میں بہت خوش ہوں تمہارے لیے میری دوست۔۔۔۔۔ یوہو۔۔۔۔!″
وہ دونوں ایک دوسرے کے گلے لگ گئیں اور خوشی سے جھومنے لگیں۔
باہر برف باری ہو رہی تھی اور سمندر کے کنارے ایک خوبرو نوجوان جس کی آنکھیں تیز نیلی اور ایک کنویں کی مانند گہری تھیں اور بالوں کا رنگ گولڈن اور چہرہ چاند کی طرح روشن تھا بیٹھا اپنے خیالات میں گم تھا اور دنیا کی چہل پہل سے بالکل ناواقف تھا۔ یہ دراصل وہی شخص تھا جس نے سیودا کو بچایا تھا۔ اسے ایک فون کال آئی۔
نوجوان:
″ جی۔ dad!″
Dad:
″لیو! تم کہاں ہو؟ تمہیں معلوم نہیں کہ ہمیں آج جنگل میں شکار کے لیے جانا ہے۔ میں تمہارا انتظار کر رہا ہوں۔″
Leo:
″Okay! Dad۔″
فون بند ہو گیا اور وہ دوبارہ سے اپنے خیالات میں ڈوب گیا۔ قریبا دو بجے کے قریب وہ گھنے جنگل میں پہنچ گیا۔
Dad (بھاری آواز میں):
″لیو! تمہیں کسی نے دیکھا تو نہیں یہاں آتے ہوۓ، ہمیں دنیا کی نظر سے بچ کر رہنا ہو گا۔ہم ویمپائرز جتنا انسانوں سے دور رہیں گے اتنا ہی محفوظ رہیں گے۔″
یہ کہتے ہی وہ شکار کے لیے اپنی اپنی راہ پر نکل گۓ۔۔۔۔ جب لیو جنگل کی گہرائی میں پہنچا تو اسے کچھ محسوس ہوا۔ جنگل میں اندھیرا اور دھواں ہی دھواں تھا۔ لیو نے آنکھیں بند کیں اور اتنی تیزی سے بھاگا کہ کسی عام انسان کی آنکھ اسے دیکھنے سے قاصر تھی۔ وہ کچھ دیر بعد رکا اور اس کے 3-2 انچ لمبے دانت نکل آئے اور وہ ایک ہرن پر جھپٹ پڑا اور اسے چیر پھاڑ دیا۔
ادھر سیودا نے اپنی روزمرہ ڈائری نکالی اور اس پر اس واقع کو تحریر کرنے لگی۔ کچھ دیر بعد وہ بستر پر لیٹی اور اس شخص کے متعلق سوچنے لگی اور پھر سو گئ۔ صبح علینا نے سیودا کو جگایا کہ انہیں آفس سے دیر ہو چکی ہے۔ دونوں جلدی جلدی تیاری کے بعد گھر سے آفس کے لیے روانہ ہو گئیں۔
دوسری جگہ لیو ایک اندھیرے کمرے میں سیودا کے بارے میں معلومات اکٹھی کئیے بیٹھا اس واقعے کے بارے میں سوچ رہا تھا۔ اسی دوران اس کی آنکھیں چمکیں۔
اگلے دن سیودا آفس میں اپنے کیبن میں بیٹھی تھی کہ ایک امپلوئی نے اسے آ کر باس کے آرڈرز کے بارے میں بتایا۔
Employ:
″مس سیودا! باس نے مجھے یہ آرڈر دیا ہے کہ اسپیشلی آپ کو اس بات سے اگاہ کروں کیونکہ آپ نے نئ نئ جوب جوئن کی ہے،کہ ہماری کمپنی کل اپنے پورے 15 سال مکمل کرنے جا رہی ہے اور ہماری کمپنی کے نئے پارٹنر کو ویلکم کرنے کے لیے پارٹی ارینج کی گئ ہے۔ تو آپ کی شرکت اس پارٹی میں لازمی ہے۔″
سیودا:
″اوکے جی! تھینک یو۔ کیا وہ پارٹنر پہلی مرتبہ کمپنی میں وزٹ کے لیے آئیں گے؟″
Employ:
″جی ہاں! چلیں پھر مجھے کام ہے۔ میں چلتی ہوں۔″
سیودا اور علینا گھر واپس جا رہی تھیں اور اس دوران سیودا نے اسے کل ہونے والی پارٹی کے بارے میں بتایا۔ اچانک راستے میں گاڑی خراب ہو گئ۔وہ دونوں گاڑی سے نیچیے اتریں اور پریشانی کے عالم میں سوچ رہیں تھیں کہ اب ہم کیا کریں گے۔ اسی دوران وہاں ایک شخص جس کا نام براک تھا آگیا۔اس نے ان دونوں کو پریشانی میں دیکھ کر اپنی گاڑی روکی اور گاڑی سے اتر کر ان کی مدد کے لیے آگے بڑھا۔
براک:
″ہیلو گرلرز۔۔۔۔ کیا آپ کی گاڑی خراب ہو گئ ہے؟ میں آپ کی مدد کر دیتا ہوں۔″
علینا:
″جی نہیں۔۔۔۔ ہم اپنی مدد خود کر لیں گے۔ بلاوجہ آپ کو زحمت ہو گی۔″
سیودا:
″ علینا! یہ تم کیا کہ رہی ہو؟ اس سنسان راستے پر ہم اکیلے کیا کریں گے؟ اس کی مدد لے لیتے ہیں۔ اس کے علاوہ ہمارے پاس کوئی دوسرا راستہ نہیں۔″
علینا:
″ تو تم کیا چاہتی ہو ہم اس اجنبی شخص پر بھروسہ کر لیں؟″
سیودا:
″ شام ہو رہی ہے ہم یہاں تنہا کیا کریں گے اور گھر کس طرح جائیں گے۔ ذرا سوچو ۔″
″ آپ مہربانی فرما کر ہماری مدد کر دیجیئے۔″
براک:
″جی ضرور۔ میرا نام براک ہے۔ آپ میری گاڑی میں بیٹھ جائیں۔ میں ابھی ورک شاپ پر کال کرتا ہوں۔″
سیودا نے علینا کو زبردستی کھینچتے ہوۓ اپنے ساتھ گاڑی میں بٹھا لیا۔ وہ براک کے ساتھ ورک شاپ پر گئیں اور پاس کافی شاپ میں تھوڑی دیر کے لیے بیٹھ گئیں۔″
علینا:
″مجھے یہ سب ٹھیک نہیں لگ رہا۔ چلو چھوڑو۔ تم نے اس دن مجھے پوری بات نہیں بتائی تھی کہ تم آخر سمندر پر کیسے پہنچی؟″
سیودا:
″ میں اس دردناک حقیقت کو جاننے کے بعد اپنے آپ پر قابو نہ رکھ سکی اور سمندر پر خودکشی کے لیے پہنچ گئ کیونکہ میں چچی کے ظلم و ستم سے تھک چکی تھی اور یہ حقیقت میرے سر پر ایک پہاڑ کی طرح ٹوٹی اور میں اپنی زندگی سے بیزار تھی۔
اس لیے میں نے یہ قدم اٹھایا مگر عین اس وقت جب میں اپنی جان دینے جا رہی تھی ایک خوبرو شخص نے مجھے بچا لیا اور پھر میں نے تمہیں کال کی۔″
علینا:
″ کیا تم پہلے اس سے مل چکی ہو؟″
سیودا:
″ یہی تو سوال ہے کہ اس اجنبی شخص نے آخر کیوں میری جان بچائی؟ آج بھی اس کا چہرہ میری آنکھوں کے سامنے آ جاتا ہے لیکن میں ایک مرتبہ اس سے ملاقات کرنا چاہتی ہوں کیونکہ اگر وہ نہ ہوتا تو میں آج شاید سمندر کی گہرائیوں میں بے جان پڑی ہوتی۔″
علینا:
″ چلو تم اداس نہ ہو ماضی کو بھلا دو اور آگے بڑھو تاکہ ایک کامیاب انسان بن سکو۔″
براک کافی شاپ میں داخل ہوا۔
براک:
″ چلیں گرلز! آپ کی گاڑی ٹھیک ہو چکی ہے۔ اور یہ میرا کارڈ ہے اگر آپ کو کبھی میری مدد کی ضرورت پیش آۓ تو مجھے کال کر سکتی ہیں۔ میں حاضر ہو جاؤں گا۔۔۔۔″
علینا:
″ بس بس۔۔۔۔ ہمیں اس کی ضرورت نہیں۔ چلو سیودا! گھر چلیں،گھر جا کر تمہیں کل کی پارٹی کے لیے تیاری بھی کرنی ہے۔″
براک:
″ کیا؟۔۔۔۔ میرے خیال سے آپ کو میرا شکریہ ادا کرنا چاہیے۔″
علینا:
″ آخر کس بات کا شکریہ۔۔۔۔ تم نہ ہوتے تو کوئی اور ہماری مدد کر دیتا۔ تم جیسوں کو میں اچھی طرح جانتی ہوں۔ مدد کے بہانے جان پہچان کی کوشش کرتے ہیں اور اگر خاطر میں نہ لاؤ تو احسان جتانے لگتے ہیں۔″
یہ کہتے ہی دونوں گاڑی میں بیٹھیں اور چلی گئیں۔
براک:
″ افسوس! ۔۔۔۔ کہ کتنے غلط خیالات ہیں اس کے میرے بارے میں۔ تمام لوگوں کو ایک جیسا سمجھتی ہے۔ مگر یہ نہیں جانتی کہ پانچوں انگلیاں برابر نہیں ہوتیں۔ آج کل بھلائی کا تو زمانہ ہی نہیں رہا۔″
سیودا اور علینا نے گھر جا کر کھانا کھایا اور پارٹی کے لیے کپڑے ڈیسائڈ کرنے لگیں۔ پھر سیودا سیلون گئ اور وہاں سے اپنے اسکن ٹریٹمنٹ کے بعد گھر آئی اور کھانا کھا کر سو گئ۔
ادھر لیو جنگل میں ایک گھنے اور پرانے درخت کے نیچے رات کی اس تاریکی میں تنہا بیٹھا تھا۔سیودا کا خوبصورت اور معصوم چہرہ اس کی آنکھوں کے سامنے آرہا تھا اور وہ اس کے خیالات میں ڈوبا تھا۔ اچانک اس نے زوروں سے رونا شروع کر دیا۔ اور ان دل دہلا دینے والی آہوں اور چیخ و پکار سے فضا میں ایک عجیب اور دردناک سماء چھایا ہوا تھا۔ اس نے خود سے کہا۔
Leo:
″ موم آپ کہاں ہیں؟ آپ کی جدائی نے دیکھیں میرا کیا حال کر دیا۔ جب آپ مجھے چھوڑ کر گئیں، اس وقت میں بہت چھوٹا تھا لیکن وہ منظر آج بھی میری آنکھوں کے سامنے یوں آتا ہے جیسے کل کا واقع ہو۔ میں جانتا ہوں آپ مجھے دیکھ اور سن رہی ہیں۔ اور دیکھیں کہ میرے ساتھ کیا ہوا، اس دن وہ لڑکی جسے میں نے بچایا اس کی آنکھیں ہو بہو آپ کے جیسی تھیں اور اسی لمحے مجھے اس سے اپنایت سی محسوس ہوئی اور میں اپنے آپ پر قابو نہ رکھ سکا اور بغیر کچھ سوچے سمجھے اسے بچا لیا۔ اس دن سے وہ روز میرے خیالات میں آتی ہے اور میں خود کو روکنے سے قاصر ہوں اور اس کی طرف کھیچا چلا جا رہا ہوں۔″
اسی دوران اس کے لمبے، نوکیلے دانت نکل آۓ اور آنکھوں سے خون کے قطرے قطار اندر قطار بہنا جاری ہو گۓ۔ اور اس کا دل کوئلے کی طرح جل کر راکھ ہو چکا تھا۔
اگلے دن سیودا معمول کی طرح جاگی اور اپنی دوست کو الوداع کرنے کے بعد اس نے ناشتا بنایا اور کیا۔ ناشتے کے بعد وہ کتاب پڑھنے لان میں چلی گئ اور کتاب پڑھتے پڑھتے اس نے خود سے کہا۔
سیودا:
″ آخر وہ کون تھا جس نے میری جان بچائی اور میرے اتنے برے رویے کے بعد بھی بغیر مجھے کچھ کہے چلا گیا۔ مجھے اسے ڈھونڈنا ہی ہوگا، ایسے یہ بےچینی مجھے مار ڑالے گی اور یہ شرمندگی مجھے برباد کر دے گی۔″
یہ سوچتے ہوۓ اس نے ٹائم دیکھا اور پارٹی کے لیے تیار ہونے چلی گئ۔ کچھ دیر بعد علینا بھی گھر واپس آگئ اور اس کی تیاری میں مدد کرنے لگی۔ سیودا شیشے میں کھڑی اپنے بالوں کو سوار رہی تھی اور سوچ میں گم تھی۔
علینا:
″ تم بہت خوبصورت لگ رہی ہو میری دوست۔ سیودا!۔۔۔۔ میں تم سے بات کر رہی ہوں۔″
سیودا:
″ کیا کہا! معاف کرنا میں نے سنا نہیں۔″
علینا:
″ یہی کہ یہ ڈریس تم پر بہت اچھا لگ رہا ہے اور سب تمہیں دیکھ کر حیران ہو جائیں گے۔″
سیودا:
″ اوہ۔۔۔۔ شکریہ! اگر تم نہ ہوتی تو میں اتنی خوبصورت نہیں لگ سکتی تھی اور اگر تم میرا ساتھ نہ دیتی تو شائد اب تک میں ٹوٹ چکی ہوتی۔″
سیودا نے یہ کہتے ہی اپنا پرس اٹھایا اور گاڑی کی طرف چل دی۔ وہ خوبصورت سیاہ، لمبی فراک پہنے ہوۓ تھی جس میں سفید نگینے جڑے تھے جو ستاروں کی طرح چمک رہے تھے، اس کی براؤن آنکھیں کاجل کی وجہ سے اور زیادہ گہری لگ رہی تھیں اور گولڈن گھنگھرالی زلفیں ہوا سے جھوم رہی تھیں۔ سرخ لپ اسٹک سے اس کے ہونٹ ایک گلاب کی پتی کی طرح ملائم محسوس ہو رہے تھے۔ اس کا شاندار لباس پیچھے سے فرش پر دور تک لٹک رہا تھا اور سیاہ ہیلز نے تو اس کی اور شان بڑھا دی تھی۔ وہ ایک پرّی کی مانند نظر آرہی تھی۔
سیودا پارٹی میں پہنچ گئ۔ وہاں سب لوگ اس کی تعریفوں کے پل باندھ رہے تھے اور ہر جگہ اس کی خوبصوتی کے گن گاۓ جا رہے تھے۔ اچانک باہر ایک سیاہ، لمبی شاندار گاڑی رکی اور اناؤنسمنٹ کی وجہ سے لوگ الرٹ ہو گۓ اور ایک شخص محفل میں داخل ہوا۔ سیودا کے چہرے کے تاثرات خوشی سے حیرانی میں تبدیل ہو گۓ۔
سیودا:
″ آہ! یہ کیا؟۔۔۔۔








