Rah e Wafa

All Rights Reserved ©

Summary

"Rah e Wafa" is a journey of love, loyalty, and survival — crossing borders and hearts. From the bustling streets of India (khan Market delhi )to the soulful corners of Pakistan ( Lhr, karachi,Isl) and into the cold, breathtaking landscapes of Russia… this is a story of two souls destined to meet, torn apart by fate, and bound by promises. It’s about family, sacrifice, friendship, and the courage to face what life throws your way. Written with pure emotion in both Urdu script and Roman Urdu, so every reader can feel the story — no matter where they are in the world.

Status
Ongoing
Chapters
1
Rating
5.0 3 reviews
Age Rating
16+

Episode 1

ناول:

راہِ وفا

از نورالعین عبدالودود

پیشِ لفظ:

راہ وفا میرے قلم کا پہلا ناول ہے، جس کا پہلا تصور اُس وقت ذہن میں آیا جب میں سولہ سال کی تھی۔ کچھ ڈرافٹس تب ہی لکھے، لیکن تحریر کو مکمل شکل دینے کا حوصلہ اب جا کر ملا جب میں سترہ سال کی ہوئی، امید کرتی ہوں کہ آپ "راہِ وفا" کے ساتھ آخر تک جڑے رہیں گے۔

یہ کہانی صرف "وفا" کی نہیں، بلکہ اُن تمام لمحوں کی ہے جہاں ہم وفا کو تلاش کرتے ہیں... خود میں، دوسروں میں، اور زندگی کے ہر موڑ پر۔ خود سے وفا کا تقاضہ یہی ہے کہ ہم اپنے اصل کو پہچانیں اور خود کو حالات اور لوگوں کے فریب سے نکالیں۔ انسان کو کوئی دوسرا دھوکہ نہیں دے سکتا سوائے اس کے کہ وہ انسان خود کو خود دھوکہ دے۔

باب نمبر 1:

نقشِ ناآشنا

ہر انساں کی زیست میں آتا ہے ایسا موڑ

جہاں سامنے ہوتے ہیں بس راستے دو؛

اِک وہ جو آساں ہے مگر کھوکھلا،

دوسرا وہ جو مشکل ہے مگر سچا۔

جو رکھتا ہے قدم اس راہ وفا پر،

پھر چاہے کتنے ہی زخم کیوں نہ آئیں

وہی کرتا ہے اصل ہجرت ـــــــــــ

ظلمت سے نور کی طرف،

اور فریب سے حقیقت کی جانب۔

دہلی شہر کی گلیوں میں بھیڑ کا شور تھا۔ ادھورے خواب آنکھوں میں سجائے، دہلی شہر کے باسی اپنی اپنی زندگی میں مصروف تھے۔ سڑک کنارے چلتے لوگ، گاڑیوں اور رکشوں کی آوازیں، دکان داروں کی صدائیں اور کہیں کہیں گاہکوں کی چخ چخ۔ دہلی کی یہ دوپہر معمول کی طرح تھکی تھکی سی تھی۔

’خان مارکیٹ‘ دہلی کی وہ دکان جیسے وقت کی پرتوں میں لپٹی ہوئی محسوس ہوتی تھی، جس کے بورڈ پر ہلکے مٹیالے پس منظر پر سرخ رنگ میں لکھا تھا: "فقیر چند بک اسٹور – 1951"۔

وہ اس وقت ہلکے بنفشی رنگ کے لمبے کرتے میں ملبوس تھی، جس پر سفید کڑھائی کا خوبصورت کام ہوا تھا۔ ساتھ سفید کھلا ٹراؤزر پہنا ہوا تھا۔

وہ فقیر چند بک اسٹور کے سامنے کھڑی تھی۔ شفون کا سفید دوپٹہ اس کے دائیں کندھے پر ڈھلا ہوا تھا۔ کمر تک آتے اُس کے ریشمی سیاہ بال آدھے بندھے ہوئے تھے اور آدھے اس کی پشت پر بکھرے تھے۔

اس نے ایک نظر دکان پر ڈالی اور اگلے ہی لمحے فقیر چند بک اسٹور کی دہلیز پار کر لی۔ وہاں کتابوں کے انبار، کاغذوں کی مانوس خوشبو، اور زندگی کا ایک نیا باب، اس کا منتظر تھا۔

وہاں کتابوں کا ایک ہجوم تھا۔ فرش پر بھی کتابوں کے اونچے نیچے ڈھیر لگے ہوئے تھے۔

اپنے کندھوں پر پرس ڈالے، اس نے پہلے ادھر اُدھر کتابوں پر نظر دوڑائی۔ وہاں کلاسکس، انگلش ناولز، سیلف ہیلپ، اردو ادب اور جدید مطالعات کی بھی اچھی خاصی تعداد موجود تھی۔ اس وقت وہاں زیادہ رش نہیں تھا۔

وہ ایک طرف بڑھی تو اس کی نظر ایک کتاب پر پڑی۔ جیسے ہی اس نے وہ کتاب پکڑنے کے لیے اپنا ہاتھ بڑھایا، اُسی وقت ایک اور ہاتھ وہی کتاب پکڑنے کے لیے بڑھا۔

دونوں کی اُنگلیاں ہلکی سی ٹکرائیں، تو دونوں نے چونک کر ایک دوسرے کی طرف دیکھا۔ اس کی بھوری بادامی آنکھوں نے لمحہ بھر سرمئی آنکھوں میں جھانکا۔ ایک پل کو جیسے وقت رک سا گیا۔ دونوں کی آنکھوں میں حیرت تھی۔ پھر وہ مسکرائی اور پیچھے ہٹتے ہوئے بولی: "آپ پہلے لے لیں۔"

انوشے کی آواز میں دہلی شہر کا رنگ تھا۔

"آپ واقعی لینے والی تھیں تو لے لیں۔" وہ دھیمے لہجے میں بولا۔ آواز میں ہچکچاہٹ صاف ظاہر تھی۔

کتاب کی طرف بڑھنے والا دوسرا ہاتھ اذلان یزدان کا تھا۔ وہی دراز قد اور شفاف رنگت والا لڑکا جو تھوڑی دیر پہلے ہی دکان میں آیا تھا۔

سفید قمیض شلوار کے ساتھ خاکی رنگ کی نفیس واسکٹ پہنی ہوئی تھی۔ قمیض کی آستینیں فولڈ کی ہوئی تھیں۔ کلائی پر بھورے پٹے والی مہنگی گھڑی تھی۔

"میں اسے پہلے پڑھ چکی ہوں۔ بس یوں ہی دوبارہ دیکھنے کا دل چاہا۔"

انوشے نے کتاب اس کی طرف بڑھا دی۔

اذلان نے کتاب پکڑ لی۔ وہ ایک مشہور اردو ناول تھا۔

"آپ انڈینز بھی اردو ناولز پڑھتے ہیں؟" اذلان نے حیرت سے اس سے پوچھا۔ "جی بالکل، صرف پڑھتے نہیں بلکہ پسند بھی کرتے ہیں." انوشے نے مسکراتے ہوئے کہا۔

"یعنی اسد نے صحیح مشورہ دیا تھا۔" وہ خود کلامی کرتے ہوئے بولا۔

"جی؟" انوشے نے پوچھا۔

"نہیں، دراصل میں نے ایک ناول لکھا تھا تو میرے دوست نے مشورہ دیا کہ یہ انڈیا میں بھی پبلش کروا لو، وہاں بھی اچھے اردو ناولز پسند کیے جاتے ہیں۔" اذلان نے جواباً کہا۔

"اچھا، تو آپ ایک ناول نگار ہیں؟"

انوشے نے کہا تو اذلان نے دھیما سا مسکرا کر سر ہلادیا۔ اس کی دھیمی سی مسکراہٹ جاذبِ نظر تھی۔

"کچھ ایسا ہی سمجھ لیں۔ اسی سلسلے میں دہلی آیا ہوں۔ فقیر چند بُک اسٹور کے بارے میں کافی سنا تھا۔ سوچا دیکھ ہی لوں۔"

وہ ادھر اُدھر دیکھتے ہوئے بولا۔

"تو پھر آپ کو کیسی لگی فقیر چند کی دکان؟" انوشے نے اس اجنبی سے پوچھا۔ لہجے میں اشتیاق تھا۔

"جیسے لفظوں کی خانقاہ ہو جہاں حرفوں کے درویش رہتے ہوں۔"

اذلان کی سرمئی آنکھیں گہرا سا تاثر دیتی تھیں، جو کہ نازک سی سنہری فریم والی عینک کے ہالے میں تھیں۔

"آپ یہاں کے نہیں ہیں؟ ٹھیک سمجھی کیا میں؟" انوشے نے پوچھا۔ لہجے میں تجسس تھا۔

"جی میں پاکستان سے ہوں۔ اردو ادب کا طالب علم۔ لاہور سے۔ یہاں ایک ادبی محفل میں شرکت کے لیے بھی آیا ہوں۔" یہ کہتے ہوئے اذلان نے ایک اردو شاعری والی کتاب کو ہاتھ میں لیا۔ اور اس کا سرِورق دیکھنے لگا۔

انوشے نے اس کے ہاتھ میں پکڑی کتاب کو دیکھا۔ وہ یہ بھی پڑھ چکی تھی۔ اُسے خود پر حیرت ہوئی۔

"آپ شاعری پسند کرتے ہیں؟" انوشے نے اس سے پوچھا۔

"جی، بس یوں سمجھ لیں، جسے لفظوں سے عشق ہو وہ ان کتابوں کو چھوڑ نہیں سکتا۔" اذلان نے کہا اور پھر کتاب واپس رکھ دی۔

"آپ لوگ اردو آسانی سے پڑھ لیتے ہیں؟" جانے کس تحت مگر اس نے انوشے سے پوچھ لیا۔

"کچھ لوگ پڑھ لیتے ہیں… شاید یہ حیرت کی بات نہ ہو… ہر لفظ کا کوئی نہ کوئی گھر ہوتا ہے، اور اردو کا گھر صرف سرحد کے اس طرف نہیں، کئی ہندوستانی دلوں میں یہ زبان اب بھی سانس لیتی ہے۔ میرے نانا اردو کے استاد تھے، اُن کے ساتھ ہی پڑھنا اور سمجھنا سیکھا۔

اور ویسے بھی جنہیں پڑھنے میں دقت ہو وہ رومن میں پڑھ لیتے ہیں۔" انوشے نے کہا تو اذلان نے سمجھتے ہوئے سر ہلا دیا۔

"اردو ادب میں آپ کا ذوق مجھے پسند آیا۔" اذلان نے اُسے سراہتے ہوئے کہا، پھر لہجے میں تھوڑا تجسس سمو کر پوچھا، "مگر اردو بھارت میں؟… خاص طور پر نئی نسل میں یہ شوق کم نہیں ہو رہا؟" اذلان نے پوچھا تو انوشے ہنس دی۔ اردگرد کتابوں نے جیسے سر اٹھا کر دیکھا۔

اذلان نے حیرت سے اُسے ہنستے دیکھا۔ جانے کیوں اُسے انوشے کی ہنسی ایک مکمل نظم کی طرح لگی…

"آپ خود بھی اسی نئی نسل میں شمار ہوتے ہیں۔" انوشے نے شرارت سے جتایا، تو اذلان کی مسکراہٹ گہری ہوئی۔ اسے اپنی منطق کی شکست کا احساس ہوا تھا۔

انوشے کے ملائم نقوش اور گندمی رنگت میں ایک خاص قسم کا ٹھہراؤ تھا جس نے اذلان کی توجہ کو جیسے کسی حصار میں لے لیا۔ وہ عام لڑکیوں سے مختلف تھی، وجہ صرف اس کے نقوش نہیں تھے بلکہ وہ وقار تھا جو اس کی سانولی رنگت سے جھلکتا تھا۔

"دیکھیں بات تو سچ ہے۔ مگر یہاں بھارت میں شاید آپ اُن لوگوں سے نہیں ملے جو ان کتابوں میں اپنی زندگی ڈھونڈھتے ہیں۔ کتابیں تو وہ دنیا ہیں جہاں جا کر ہم اپنے آپ کو پا سکتے ہیں۔ جہاں زندگی کے کئی رنگ، کہانیاں اور سبق ملتے ہیں۔" انوشے اب ایک سرخ جلد والی کتاب ہاتھ میں لے چکی تھی۔ گردن جھکا کر دیکھا تو چند لٹیں اس کے چہرے کے اطراف میں جھول گئیں۔

"مجھے لگا اردو صرف پاکستان کی ہو کے رہ گئی ہے۔" پھر وقفہ لیتے ہوئے، "غالباً آپ شاعری کا بھی ذوق رکھتی ہیں؟" اذلان نے پوچھا۔

انوشے نے نظریں اٹھا کر دیکھا۔ اس کی بھوری بادامی آنکھوں کو کاجل نے اور گہرا تاثر دے دیا تھا۔

"جی شاعری بھی پڑھتی ہوں۔ ویسے آپ کے پسندیدہ شاعر کون سے ہیں؟" انوشے نے اذلان سے پوچھا۔

"فیض احمد فیض، ان کے بعد اقبال، احمد فراز اور حبیب جالب بھی میرے پسندیدہ ہیں۔" اذلان نے جواباً کہا۔

"اور آپ کس کو پڑھنا پسند کرتی ہیں؟" پھر انوشے سے پوچھا۔

"یہاں بھارت کے راجندر منچندا بانی، ان کے علاوہ تہذیب حافی، پروین شاکر اور بسمل سعیدی بھی میرے فیوریٹ ہیں۔ آپ نے اشفاق احمد صاحب کا 'زاویہ' یا ان کے افسانے پڑھے ہیں؟" انوشے نے کہتے ہوئے آخر میں اس سے پوچھا۔ شاید وہ دونوں کے درمیان ہونے والی گفتگو کو لاشعوری طور پر طول دے رہی تھی۔

"جی بالکل! وہ تو زندگی کا فلسفہ سکھاتے ہیں۔" پھر اذلان نے انوشے کے ہاتھ میں پکڑی کتاب کی طرف دیکھتے ہوئے پوچھا۔ "چالیس چراغِ محبت، کیا آپ یہ پڑھ چکی ہیں؟ کس اصول نے سب سے زیادہ متاثر کیا؟"

انوشے نے ہاتھ میں پکڑی کتاب کی طرف دیکھا۔ اور ہاں میں سر ہلايا۔ پھر کتاب کو دیکھتے ہوئے کہا، "محبت کے ان چالیس اصولوں میں سے، جو ایلف شفق کے اس ناول میں شمس تبریز سے منسوب ہیں، میرا پسندیدہ ایک اصول ہے۔ وہ یہ کہ ایک کامل بے عیب اور بے خطا خدا سے محبت کرنا آسان ہے، جیسا کہ بلاشبہ وہ ہے۔

اس سے کہیں زیادہ مشکل ہے اپنے ساتھی انسانوں سے ان کی تمام تر خامیوں اور نقائص کے ساتھ محبت کرنا۔ ایک انسان صرف وہی جان سکتا ہے جس سے وہ محبت کرنے کے قابل ہے۔ محبت کے بغیر کوئی دانش نہیں۔" انوشے کی آواز نرم تھی مگر لہجہ شفاف تھا۔ باریک لبوں سے ادا ہوتے اس کے الفاظ سامنے والے پر اپنا اثر چھوڑتے تھے۔ بلاشبہ انوشے کی آواز بہت پیاری تھی۔

"جب تک کہ ہم خدا کی مخلوق سے محبت کرنا نہ سیکھ لیں، ہم خدا سے حقیقت میں محبت کرسکتے ہیں، نہ ہی اُسے حقیقت میں جان سکتے ہیں۔" انوشے نے بات مُکمل کرتے ہوئے دو کتابیں ہاتھ میں لیں جنہیں وہ خریدنے کا ارادہ کر چکی تھی اور ساتھ ہی اذلان کی طرف ایک نظر دیکھا۔ اذلان نے گہری سانس لی اور کہا۔

"بہت اچھا اصول ہے اور یہ بات سچ بھی ہے۔ جو انسان لوگوں کا شکر ادا کرنا اور اُن سے محبت کرنا نہیں سیکھ لیتا وہ خدا سے محبت کا دعویٰ بھی نہیں کر سکتا۔" پھر انوشے کی طرف دیکھتے ہوئے کہا۔

"کتابوں اور ناولز میں آپ کی دلچپسی قابلِ قدر ہے۔ ہو سکے تو میرا ناول بھی ضرور پڑھیے گا۔ میرا نام اذلان یزدان ہے۔ اور آپ بھی غالباً طالب علم ہیں؟"

اذلان نےاپنا تعارف کرواتے ہوئے آخر میں استفہام کیا۔

"میرا نام انوشے ہے، انوشے ظفر۔ ایک ورِدھ آشرم کی ہیلپر کے طور پر کام کرتی ہوں۔ پارٹ ٹائم کتابوں کا ذوق پورا ہوتا ہے۔" پھر اس نے ہاتھ میں پکڑی کتابوں کو اونچا کرتے ہوئے کہا۔

"یہ کتابیں میرے بچپن کی ساتھی ہیں، سب سے وفادار ساتھی۔ (شاید یہی وجہ ہے کہ میں کبھی مستقل دوست نہیں بنا سکی۔ اس نے دل میں سوچا۔)

اور جہاں تک بات ہے طالب علم ہونے کی، تو وہ ہم ساری زندگی رہتے ہیں، کیوں کہ ہم ہر روز کچھ نہ کچھ نیا سیکھتے رہتے ہیں۔" انوشے نے کہا تو اذلان محض سر ہلا کر رہ گیا۔ پیشانی پر بکھرے بال، ہلکی بڑھی شیو اور باریک مونچھیں اُسے لاابالی سا تاثر دیتی تھیں مگر اس کے لباس میں نفاست کی جھلک تھی۔

"میں آپ کا ناول ضرور پڑھوں گی۔" یہ کہتے ہوئے انوشے رسمی سا مسکرادی۔ بات مُکمل ہوئی، اور یوں دونوں کے درمیان ہوئی گفتگو کا اختتام ہوا۔ کہنے کو اب کچھ نہیں بچا تھا۔ لیکن اُسے انوشے نام کی اس ہندوستانی لڑکی کی باتیں اچھی لگی تھیں۔

کافی عرصے بعد اُسے کوئی ایسا ملا تھا جس کے ساتھ اس نے ذہنی ہم آہنگی محسوس کی تھی۔

دوسری طرف انوشے کتابیں خرید کر اُنہیں اپنے بیگ میں ڈال چکی تو دکان سے باہر نکلنے سے پہلے اس نے بے ساختہ گردن موڑ کر اذلان کو ایک نظر دیکھا تھا۔

اس کی بھوری بادامی آنکھوں میں ایک عجیب سی کشش تھی، جسے اذلان نے محسوس کیا تھا۔ پھر وہ مڑی اور باہر کو چل دی۔ اذلان وہیں کھڑا اُسے جاتا دیکھے گیا۔ کیا وہ اس لڑکی سے دوبارہ ملے گا؟ کہیں اندر اُسے احساس ہوا کہ وہ پھر اس لڑکی سے ملے گا؟ کب، کیسے، کہاں؟ یہ جانے بغیر۔

بے اختیار اُسے کسی شاعر کا کہا شعر یاد آیا۔

وہ ایک عکس کہ پل بھر نظر میں ٹھہرا تھا

تمام عمر کا اب سلسلہ ہے میرے لیے

اس نے گہری سانس بھری جیسے کچھ دیر پہلے کا اثر اپنے دل سے زائل کر دینا چاہتا ہو۔ اور پھر بظاہر اپنے ہاتھ میں پکڑی کتاب کی طرف متوجہ ہو گیا۔ یہ جانے بغیر کہ اب اس کا دل ایک نئی لے میں دھڑکنے لگا تھا۔

دوسری طرف انوشے جب کتابیں خرید کر دکان سے نکلی تھی تو ایک نظر یوں ہی مڑ کر اذلان کو دیکھا تھا تو اُسے اپنی ہی طرف دیکھتے پایا تھا۔

اذلان کی آنکھوں میں ایک شفاف مگر گہرا تاثر تھا۔ وہی جو لفظوں سے محبت کرنے والوں کی آنکھوں میں ہوتا ہے۔

پھر وہ مڑی اور فقیر چند بُک اسٹور سے باہر قدم بڑھا دیئے۔

وہ اذلان یزدان سے ہونے والی اس ملاقات کو بھول نہیں سکے گی۔ وہ اُسے بہت مُختلف لگا تھا۔ کافی دنوں بعد وہ یوں کسی سے اپنی پڑھی کتاب

کے بارے میں بات کر سکی تھی۔

جب کہ… فقیر چند کی کتابیں گواہ تھیں کہ…

کچھ ملاقاتیں حادثہ نہیں ہوتیں، مقدر ہوتی ہیں…

•••••••••

Royal Arc...ایک نام... ایک پہچان۔

وہ ہوٹل چین جس کا تذکرہ صرف سہولت یا آرام کے حوالے سے نہیں بلکہ سلیقے اور کلاس کی علامت کے طور پر بھی کیا جاتا تھا۔

"رائل آرک" کا یہ خواب حقیقت بنایا تھا، زمان ملک نے۔

لاہور کی شاہراہِ قائد پر واقع "Royal Arc" ہوٹل کی یہ برانچ شہر کی سب سے بلند اور دیدہ زیب عمارتوں میں شمار کی جاتی تھی۔

عمارت کی چھٹی منزل پر واقع ایگزیکٹو آفس… شیشے کی دیواروں سے گھرا ہوا تھا۔

زمان ملک خود، اس وقت شیشے کی دیوار کے پاس کھڑے تھے۔ اُن کا لباس ہمیشہ کی طرح بے داغ تھا۔

اُس وقت اُن کی آفس ٹیبل کے سامنے والی کرسی پر وفا زمان بیٹھی تھی۔ اُس کے نقوش تیکھے تھے۔ شیشے سے آتی سورج کی سنہری کرنوں سے اُس کی گندمی رنگت کچھ کچھ سنہری چمک دے رہی تھی۔ بال قدرتی طور پر سرخی مائل بھورے تھے جو بالکل سیدھے کندھوں سے ذرا نیچے تک آتے تھے۔

زمان ملک نے آہستہ سے پلٹ کر کرسی کی پشت پر ہاتھ ٹکا دیا، اور ایک نظر اپنی بیٹی کو دیکھا۔

وہ اس وقت ہلکے مسٹرڈ رنگ کی کرسپ کاٹن میکسی میں ملبوس تھی جو اس کے ٹخنوں سے ذرا اوپر تک آتی تھی۔ اس کے اوپر سفید رنگ کا نفیس کراپڈ بلیزر پہنا ہوا تھا۔ گردن کے گرد پیلے اور سفید پھولوں والا ریشمی سکارف ایک طرف بندھا تھا۔ اپنی اس پروفیشنل لک کی وجہ سے وہ اپنی عمر سے کچھ بڑی لگ رہی تھی۔

انہوں نے اُس سے کہا: "وفا… تم بڑی ہو گئی ہو۔ اب وقت آ گیا ہے کہ تم ہمارے بزنس کو سمجھنا شروع کرو۔"

انہوں نے آہستہ سے کرسی کھینچی اور بیٹھتے ہوئے وفا کی طرف دیکھا۔

"یہ جو کچھ تم دیکھ رہی ہو، صرف ہوٹل نہیں ہیں… یہ برسوں کی محنت ہے، خواب ہیں… اور تم اس خواب کا حصہ ہو۔"

وفا نے چند لمحے اُن کی طرف دیکھا۔ ہوٹل کے ماحول، کاروبار کی دنیا، گلیمر اور ذمہ داریوں کی پیچیدگیاں، سب جیسے اس کی نظر کے سامنے سے گزرا۔

"بابا… مجھے نہیں لگتا میں یہ سب سنبھال سکوں گی۔ آپ کو نہیں لگتا آپ جلدی کر رہے ہیں۔" یہ اس کی غیر دلچپسی کا اظہار تھا۔

زمان ملک ہلکا سا مسکرائے لیکن آنکھوں میں سنجیدگی باقی رہی۔

"سنبھالنا کبھی سیکھا نہیں جاتا، وقت سکھا دیتا ہے۔ تم بس پہلا قدم رکھو۔ میں تمہیں جلدی کرنے کا نہیں کہہ رہا۔"

وفا خاموش رہی۔ وہ اس کی غیر دلچپسی کو وقتی جھجھک کا نام دے رہے تھے۔

"میں چاہتا ہوں تم بزنس کے معاملات میں باقاعدہ دلچسپی لو۔ کل سے وقار تمہیں'رائل آرک' کی دوسری برانچ کا دورہ کروائے گا۔ کچھ چیزیں تمہیں خود دیکھنی چاہییں، اور کچھ سیکھنی چاہییں۔" وفا کی نظریں اب شیشے کی کھڑکیوں سے باہر جھانک رہی تھیں۔

وفا کی بھوری آنکھوں میں کچھ عنابی سا تاثر تھا جو سورج کی کرنوں سے کچھ اور گہرا عنابی لگ رہا تھا۔ اُس کی آنکھوں میں نہ انکار تھا، نہ بے زاری بس ایک خاموش قبولیت۔

"ٹھیک ہے، بابا۔"

سنجیدگی سے جواب دیا۔ یقیناً وہ یہ جاننے میں دلچسپی نہیں رکھتے تھے کہ وہ خود کیا چاہتی ہے۔

جب کہ اس کے جذبات سے بےخبر زمان ملک نے مسکرا کر سر ہلایا۔ پھر کرسی سے تھوڑا سا آگے جھک کر میز پر پڑی فائل بند کی، پھر ایک لمحے کے توقف کے بعد دوبارہ نگاہ وفا پر ڈالی۔

اس کی عنابی آنکھیں خوبصورت مگر سنجیدہ تھیں۔

"تم میرے خون کی وارث ہو، اور رائل آرک صرف ایک ہوٹل چین نہیں، یہ میری زندگی کا حاصل ہے۔

میں چاہتا ہوں کہ کل کو جب لوگ تمہیں دیکھیں تو صرف یہ نہ کہیں کہ 'زمان ملک کی بیٹی ہے'... بلکہ میں چاہتا ہوں تمہاری اپنی پہچان ہو۔ اور تم بنا سکتی ہو۔"

وفا خاموش رہی، یہ بچپن کی فیری ٹیل نہیں تھی۔

یہ کاروبار تھا۔ ایک ایسی دنیا جس کی اُسے خواہش نہیں تھی۔

"اور ایک بات اور، معاذ کو بھی اپنے ساتھ رکھا کرو۔"

وفا کی سنجیدہ آنکھوں میں اب بے نیازی سی تھی۔ مگر اس بے نیازی میں کچھ مصنوعی سا تاثر تھا جسے وہ خود بھی محسوس نہ کر سکی۔

"بابا، اب آپ مجھ سے زیادہ ایکسپیکٹ کر رہے ہیں۔"

زمان ملک نے گہرا سانس لیا۔

"وفا، میں چاہتا ہوں کہ تم دونوں مل کر سیکھو۔ تم بڑی ہو، تم میں فہم ہے۔ وہ ابھی نادان ہے… لیکن اس خاندانی وراثت کو اگر مضبوط ہاتھوں میں دینا ہے، تو تم دونوں کو ایک دوسرے کا ساتھ دینا ہوگا۔"

وفا جواباً چند لمحے خاموش رہی، پھر کہا،

"ٹھیک ہے بابا… میں کوشش کروں گی۔"

زمان ملک نے سر ہلایا، جیسے دل کے کسی گوشے کو اطمینان ملا ہو۔

اپنی بیٹی سے بات کرتے ہوئے اُن کا رویہ جتنا پروفیشنل تھا وفا نے بھی اسی طریقے کو برقرار رکھا تھا۔ وہ جانتی تھی کہ زمان ملک کے دفتر میں وہ ایک بیٹی نہیں، بلکہ 'رائل آرک' کی وارث تھی اور وراثتیں کبھی بھی خواہشات کی بنیاد پر نہیں بانٹی جاتیں۔

••••••••••

ساون کے بادلوں سے ڈھکی وہ شام کراچی کے معمول سے ذرا مختلف تھی۔ ڈیفنس فیز 8 کی کشادہ شاہراہ پر واقع رائل آرک کے پارکنگ ایریا میں سیاہ مرسیڈیز آکر کھڑی ہوئی۔ گاڑی کا پچھلا دروازہ کھلا اور سبز بلاک ہیلز پہنے وہ باہر نکلی۔ اُس وقت وہ سبز رنگ کا گاؤن پہنے ہوئے تھی جو ٹخنوں سے ذرا اوپر کو تھا۔ ساتھ سرخ رنگ کا کراپڈ بلیزر پہنا ہوا تھا، جس کے بازو کلائیوں تک آتے تھے۔ گردن کے گرد سبز اور سرخ پھولوں والا ریشمی اسکارف بائیں طرف بندھا تھا۔

وہ نپے تلے قدم بھرتی بلڈنگ میں داخل ہوئی۔ آنکھوں پر سے سیاہ چشمہ اُتارا تو عنابی تاثر لیے اُس کی آنکھیں واضح ہوئیں۔

استقبالیہ پر ہوٹل کے آفیشل ڈریس میں ملبوس مستعد عملہ موجود تھا۔

وہ لابی میں کچھ دیر رکی رہی۔ اِدھر اُدھر دیکھنے پر اونچی پونی میں بندھے بال اُس کے سر کے ساتھ ساتھ حرکت کرتے تھے۔

جب زمان ملک لابی میں داخل ہوئے تو اُن کے ساتھ مینجرز بھی تھے۔

اُن کی شخصیت میں برسوں کی ریاضت، تجربے، اور کامیابی کی جھلک تھی۔ وہ اس کے پاس چلے آئے۔

"نائس، وقت سے پہلے پہنچی ہو۔"

وفا نے ہلکا سا مسکرانے پر اکتفا کیا۔

"چلو میرے ساتھ۔ تمہیں دکھاتا ہوں ہمارا روز کا نظام کیسے چلتا ہے۔"

وہ اُسے کانفرنس روم، کچن، ہاؤس کیپنگ، اور ایونٹس مینجمنٹ کی جگہوں پر لے گئے۔ ہر جگہ وہ صرف دیکھتی رہی، ویسے بھی یہ سب اُس کے لیے نیا نہیں تھا۔ اس کے بچپن کی اکثر چھٹیاں انہی جگہوں پر گزری تھیں۔

"وقار!" زمان ملک نے ایک ادھیڑ عمر، نہایت مستعد شخص کو آواز دی جو ان کے ساتھ چل رہا تھا۔ "جی سر!"

"کل سے وفا یہاں کے آپریشنز کو براہِ راست مانیٹر کریں گی۔ ان کا کیبن تیار ہے نا؟"

"جی سر، بالکل تیار ہے۔" وقار نے مودبانہ سر ہلایا۔ وفا نے ایک گہری سانس لی۔ یہاں کی ٹھنڈی اے سی والی ہوا اسے باہر کی ساون زدہ نمی سے کہیں زیادہ بوجھل لگ رہی تھی۔ کراچی کی یہ بلڈنگ اُن کے بزنس ہوٹل کی سب سے اہم برانچ تھی۔ زمان ملک اسے مختلف حصوں کا تعارف کروا رہے تھے۔ اچانک زمان ملک ایک دروازے کے سامنے رکے اور مسکرا کر وفا کی طرف دیکھا۔ "اور یہ تمہارا کیبن ہے۔ رائل آرک کا نیا مرکزِ ثقل۔"

وفا نے جب قدم اندر رکھا، تو سامنے کی بڑی دیوار پر لگے رائل آرک کے 'لوگو' (Logo) پر اس کی نظر پڑی۔ اسے لگا جیسے وہ کوئی عہدہ نہیں، بلکہ ایک ایسی ذمہ داری سنبھالنے جا رہی ہے جو اسے اس کی اپنی شناخت سے دور لے جائے گی۔

••••••••••

اذانِ فجر کے کچھ دیر بعد، کچن کے سنک میں پڑے برتن دھلے ہوئے تھے، اور چولہے پر اب چائے کا پانی چڑھا ہوا تھا۔

اُس کی آنکھوں میں نیند کی ہلکی سی لالی باقی تھی، مگر چہرے پر ایک ذمہ دار سنجیدگی نمایاں تھی۔

نماز پڑھنے کے بعد وہ سیدھا کچن میں آئی تھی۔ آٹے میں ہلکا نمک ڈال کر اسے گوندھا۔ چولہے کے ساتھ رکھی پرانی مگر صاف سلیب پر چھوٹا چھوٹا کٹا پیاز، ٹماٹر اور ہری مرچ پلیٹ میں پڑے تھے۔ وہ جلدی جلدی آملیٹ بنانے لگی اور پھر پراٹھے بنانے شروع کیے۔

ایک پرانے اسٹیل کے تھال میں اس نے چائے کا کپ، دو پراٹھے اور آملیٹ رکھا، اور خاموشی سے کمرے میں جا کر اپنے باپ کے سامنے تھال رکھ دیا۔

"ابو، ناشتہ رکھ دیا ہے…"

آہستہ سے کہا اور واپس پلٹ آئی۔ خالد صاحب ہفتے میں ایک ناشتہ آملیٹ کا ضرور کیا کرتے تھے۔

کچن میں واپس آکر اس نے باقی سب کے حصے کا ناشتہ تیار کیا۔ اپنے اور باقی سب کے لیے اُس نے گھی والی روٹیوں کے ساتھ رات کا سالن گرم کیا تھا۔

پھر کمرے میں جا کر جلدی جلدی اپنے کالج کے کپڑے نکالے، استری نکالی اور تار لگا کر استری گرم کرنے لگی۔ سفید کُرتہ اور ہلکے نیلے رنگ کا دوپٹہ، اس کا یونیفارم تھا۔ استری کرتے کرتے وہ بار بار گھڑی کی طرف دیکھتی۔ وقت جیسے ہاتھ سے پھسل رہا تھا۔

کپڑے استری کرنے کے بعد اس نے انہیں الماری کے ایک طرف رکھ دیا اور ساتھ والے کمرے میں پہنچی۔ امی، بھائی، اور چھوٹی بہن کو اٹھانے کا وقت ہو چکا تھا۔

"امی… صبح ہوگئی ہے، ناشتہ بھی تیار ہے…"

"ارے اُٹھ جاؤ کرن، اسکول نہیں جانا؟"

گھر میں ہلچل سی ہونے لگی تھی۔

وہ خود بھی ناشتہ کرنے لگی پھر ساتھ والے کمرے میں پہنچی، جلدی سے یونیفارم پہنا اور پھر بیگ میں اپنی کتابیں چیک کرنے لگی۔ کون سی کتاب کے بغیر آج گزارا ہوسکتا تھا، وہ دیکھ رہی تھی تاکہ بیگ کا وزن تھوڑا ہلکا ہو۔

پھر اس نے ایک نظر آئینہ دیکھا۔ اُس کی رنگت سانولی اور نقوش قبول صورت تھے۔ وہ زینب خالد تھی۔ ایک بے حد عام سی لڑکی، آئینہ دیکھ کر اس نے اپنے بارے میں یہی سوچا تھا۔

پھر وہ سوچتی ہی چلی گئی۔ کیا تھا اُس کے پاس جو اُسے خاص بناتا؟ اُس نے بہت سوچا اُسے کچھ نہ ملا۔

اس کا گھر پرانا لیکن سادہ سا تھا۔

محلے کے آخر میں واقع، دو کمروں پر مشتمل وہ مکان کسی دور میں شاید نیا بنا تھا۔

بیرونی دروازہ لکڑی کا تھا، جس کے کنارے خستہ ہو چکے تھے۔

صحن چھوٹا سا تھا، اینٹوں سے بنا فرش جگہ جگہ سے اکھڑ چکا تھا۔

ایک طرف پرانی سی ٹنکی تھی، اور اس کے آس پاس کچھ مریل سے گملے پڑے رہتے۔

برآمدے کے اندر ہی ایک طرف چھوٹا سا اوپن کچن تھا۔ اور ایک طرف دروازہ تھا جو اندر کو جاتا تھا۔

اندر داخل ہوتے ہی ایک چھوٹا سا کمرہ تھا جسے ڈرائنگ روم کہا جاسکتا تھا، لیکن اصل میں وہی سب کچھ تھا۔ بیٹھک بھی، استری کرنے، سلائی کرنے، کھانا کھانے کی جگہ اور کبھی کبھی چھوٹے بہن بھائیوں کا سونے کا کمرہ بھی۔ فرش پر دری بچھی ہوئی تھی۔ اُس کی امی کے جہیز کی دو کرسیاں، ایک میز تھی جو ایک طرف پڑی تھی۔ ساتھ الماری اور صندوق پڑے تھے۔

چھت پر پنکھا ضرور تھا، مگر اُس کی رفتار اُس کی اپنی زندگی کی طرح محدود تھی۔

دوسرے کمرے میں ایک پرانا سا پلنگ تھا ساتھ نیچے زمین پر میٹریس بچھا تھا۔ ایک طرف لوہے کی الماری تھی۔

غسل خانہ بھی صحن کے ساتھ ہی جڑا ہوا تھا۔

یہ گھر چھوٹا تھا مگر کم نہ تھا کیوں کہ اس میں وہ اپنے خواب بُن رہی تھی۔

اس نے امی کو جلدی میں سلام کیا اور دروازے کی چٹخنی کھول کر باہر نکلی۔

قریبی بس اسٹاپ تک پیدل چلنا، اس کے معمولات کا حصہ تھا۔ چھوٹے چھوٹے گھروں کے بیچ سے گزرتی، وہ ہر روز کی طرح آج بھی رکشے، چائے کے ہوٹل اور کریانہ اسٹورز کے سامنے سے گزر رہی تھی۔

اُس سے ایک سال چھوٹا اس کا بھائی عمر اُس کے ساتھ تھا۔

تھوڑے فاصلے پر آنے والی بس، جو کہ ہمیشہ کچھ تاخیر سے آتی، آج بھی ویسے ہی ہانپتی ہوئی پہنچی۔

وہ بس پر چڑھی، بمشکل جگہ بنائی اور ہینڈل پکڑ کر کھڑی ہو گئی۔

پانچواں اسٹاپ آیا اور وہ کرایہ دیتی باہر نکلی۔ آگے اُسے سیدھ میں چند منٹ چلنا تھا اور پھر اس کا کالج تھا۔

یہ کالج شہر بھر کے بڑے کالجز میں شمار ہوتا تھا جو کہ ہر سال میرٹ کی بنیاد پر پچاس کے قریب بچوں کو سو فیصد اسکالرشپ بھی دیتا تھا۔ زینب خالد اُنہیں بچوں میں سے ایک تھی۔

اس نے میٹرک میں پچانوے فیصد نمبر لیے تھے اور اب وہ اس کالج میں فیس کے بغیر پڑھتی تھی جہاں اسکالرشپ کے علاوہ صرف وہی بچے پڑھ سکتے تھے جن کے مالی حالات بہت بہتر تھے۔

بہرحال وہ کالج پہنچی اور گیٹ سے اندر داخل ہوئی، کندھے پر بیگ تھا۔ اُس نے بڑی سی سیاہ چادر یونیفارم کے ساتھ پہنی ہوئی تھی جو اُس کے گرد اچھے سے لپٹی تھی۔

کالج کو جوائن کیے اُسے بمشکل ایک مہینہ ہوا تھا، لیکن وہ تاحال کسی سے خاص طور پر گھل مل نہیں سکی تھی۔ ہر طرف چھوٹے چھوٹے گروپس بنے ہوئے تھے۔ وہ کسی کو اپنی دوست نہیں بنا سکی تھی یا یہ کہنا بہتر تھا کہ کوئی اُس کی دوست نہیں بنی تھی۔

زینب سب کو خاموش نظروں سے دیکھتی پھر ہمیشہ کی طرح، پچھلی قطار میں اپنے مخصوص کونے میں جا بیٹھتی۔ آج بھی اس نے ایسا ہی کیا تھا۔

فزکس کی ٹیچر چند لمحوں بعد ہی آچکی تھیں اور لیکچر شروع ہو چکا تھا۔ تقریباََ سات منٹ بعد کلاس کا دروازہ کھلا اور ایک لڑکی اندر داخل ہوئی۔

وہ معمولی سی تاخیر سے پہنچی تھی، مگر اس کے اعتماد میں ذرا بھی کمی نہ تھی۔ وہ تیز قدموں سے اندر آئی، اور نگاہ دوڑاتے ہوئے سیدھی زینب کی طرف بڑھی۔ آج کلاس میں صرف زینب کے ساتھ والی نشست خالی تھی۔ وہ بنا کچھ کہے اُس کے ساتھ بیٹھ گئی۔

زینب نے اس لڑکی کی طرف دیکھا۔ دل میں ایک ہلکی سی خوشی اُبھری کہ پہلی بار کوئی اس کے ساتھ بیٹھا تھا۔

وہ کلاس کی سب سے دراز قد، پر اعتماد اور خوبصورت لڑکی تھی۔ اُس نے یونیفارم کے ساتھ دوپٹے کو دونوں کندھوں پر ڈریپ کیا ہوا تھا۔ سرخی مائل بال جو بالکل سیدھے تھے ہائی پونی میں بند تھے۔ اُس کی آنکھیں عنابی رنگ کی تھیں۔ وہ وفا زمان تھی۔ سادہ سے حلیے میں بھی وہ بےحد پر کشش لگتی تھی۔

خوشگوار سی کیفیت میں زینب کچھ دیر اُسے دیکھتی رہی۔ اُس کی نظروں کے ارتکاز کی وجہ سے وفا نے گردن موڑ کر سوالیہ نظروں سے اُسے دیکھا۔ جیسے پوچھ رہی ہو کیا ہوا؟

زینب نے نفی میں سر ہلادیا۔

پروفیسر صاحبہ نے بورڈ پر کچھ لکھنا شروع کیا ہی تھا کہ انہوں نے اعلان کیا، "آج آپ سب کا سرپرائز ٹیسٹ ہے، سب اپنی شیٹس نکال لیں۔"

زینب نے بیگ سے اپنی جیومیٹری نکالی۔ پین غائب تھا۔ اف! عمر نے اس کا پین نکال لیا تھا اور رکھنا بھول گیا تھا۔

"آپ لوگوں کے پاس دس منٹ ہیں، مُکمل کریں، یہ پیپرز پرنسپل کے پاس جائیں گے۔ ہری اپ!"

فزکس کی پروفیسر کہہ رہی تھیں۔ اور انہوں نے بورڈ پر سوالات لکھنا شروع کر دیے تھے۔

اب وہ پین کہاں سے لائے؟

"کیا ہوا؟" وفا نے اُسے لکھتے نہ دیکھ کر اُس سے پوچھا۔

"میرا پین نہیں مل رہا۔" زینب نے اس سے کہا۔

"اٹس اوکے۔ میرے پاس دوسرا ہے۔" وفا نے اپنا دوسرا پین نکال کر اُس کی طرف بڑھایا۔

"شکریہ..." اُس نے دھیرے سے کہا۔ اور لکھنا شروع کر دیا۔

اُس دن، پہلی بار، اُسے لگا کہ وہ کالج میں اکیلی نہیں ہے۔

ایک اجنبی چہرہ، جو اُس کی خاموش دنیا میں داخل ہوا تھا، بن کہے، بس ایک مسکراہٹ کے ساتھ۔

زینب نے دل میں سوچا، شاید کل پھر وفا میرے ساتھ ہی بیٹھے... وہ اُسے پچھلے دنوں دوسری لڑکیوں کے ساتھ بھی بیٹھے دیکھ چکی تھی۔ وہ کل اس کے ساتھ دوبارہ بھی بیٹھ سکتی تھی۔

اور یہ خیال، اس دن کا سب سے روشن لمحہ تھا۔

••••••••••

سڑک پر دوڑتی اس گاڑی نے جیسے ہی کلفٹن کے ساحل کی طرف موڑ کاٹا، ہوا میں ایک الگ سی تازگی گھل گئی۔ وفا نے کھڑکی سے نظریں ہٹا کر معاذ کی طرف دیکھا۔ وہ برابر بیٹھا کوئی کتاب پڑھ رہا تھا اور اپنی ہی دنیا میں گم تھا۔ وہ دونوں زمان ملک کے کہنے پر رائل آرک کی بلیو پیئر برانچ جا رہے تھے۔

ہوٹل کے پیچھے، ذرا فاصلے پر ہی سمندر تھا۔

ہر منزل پر بالکونی، اور ہر بالکونی سے سمندر کی جھلک…

وفا گاڑی سے اتری۔ اس نے معاذ کی طرف دیکھا جو اب ڈرائیور کے ساتھ سامان نکال رہا تھا۔ اپنی صحت اور قد کی وجہ سے وہ اپنی عمر کے لڑکوں سے بڑا لگتا تھا۔ مگر اس کا گول مٹول سا چہرہ معصوم تھا۔

وہ لابی میں معاذ کے ساتھ داخل ہوئی۔ آسمانی رنگ کے گاؤن کے ساتھ گردن کے گرد نیلے اور سفید پھولوں والا ریشمی اسکارف لپٹا تھا۔

"مجھے بہت افسوس ہو رہا ہے۔" معاذ نے گردن دائیں بائیں ہلا کر کچھ افسوس بھرے لہجے میں بولا۔

"کس بات کا افسوس؟" وفا نے اس سے پوچھا۔ وہ دونوں رک گئے۔

"رضا نے مہوش کے ساتھ بہت برا کیا ہے۔" وفا نے کچھ کنفیوز ہو کر اُس کی طرف دیکھا۔ وہ صحت مند گول مٹول چہرے والا معاذ آخر کس مہوش کے لیے پریشان تھا۔

"مجھے پہلے شک تھا، رضا ایسا ہی نکلے گا۔ لڑکیاں ہمیشہ ایک ریڈ فلیگ کو ہی کیوں پسند کرتی ہیں؟"

معاذ نے کہنا جاری رکھا پھر آخر میں وفا کی طرف دیکھتے ہوئے پوچھا۔

"تم ہو کتنے اور یوں باتیں کر رہے ہو، اور یہ مہوش کون ہے؟" وفا نے ہلکے سے اس کا کان کھینچتے ہوئے اس سے پوچھا۔

"وہ، میں نے جو نیا ناول اسٹارٹ کیا ہے وہ اس کی ہیروئن ہے۔ اور اس نے ایک غلط لڑکے سے شادی کر لی ہے بس اسی بات کا افسوس ہے۔" معاذ نے جواباً اُسے وضاحت دی۔

"تمہیں صوفیہ نے کتنی دفعہ کہا ہے یوں ناولز کو اپنے سر پر سوار نہیں کرتے۔ خیر اب چلو۔" وفا نے کہتے ہوئے اس کے کان چھوڑ دیے۔

معاذ نے اس کی بات سن کر ہاں میں سر ہلایا اور اس کے ساتھ چل دیا۔

ریسپشن پر موجود مینجر نے انہیں فوراً پہچان لیا، رسمی سلام اور خیریت کے بعد انہیں ان کا کمرہ دے دیا گیا۔

وہ دونوں کمرے میں پُہنچے۔

بالکونی میں کھڑے ہو کر وفا نے دور لہروں کو دیکھا۔

منظر خوش کن تھا۔ اپنی ڈریسنگ کے لحاظ سے وہ اس جگہ کا ہی ایک حصہ لگ رہی تھی۔ کچھ مُختلف تھا تو وہ تھیں اس کی عنابی آنکھیں۔

اس نے گردن موڑ کے معاذ کو دیکھا۔ وہ سامان سیٹ کرکے پھر کتاب پڑھنے میں مصروف ہو چکا تھا۔ ساتھ کچھ کھا بھی رہا تھا۔

" تم یہاں نہیں آؤ گے؟" اس نے معاذ سے یوں ہی پوچھ لیا۔

"نہیں یار، پہلی دفعہ تو نہیں آئے نا۔ اور ویسے بھی تمہیں پتہ چلا؟" معاذ نے کتاب پر سے نظریں اٹھا کر وفا کی جانب دیکھتے ہوئے اس سے پوچھا۔

"کیا؟"

"یہی کہ اذلان بھائی واپس آ رہے ہیں۔" وہ کہہ کر پھر کتاب پڑھنے لگا۔

جب کہ وفا نے بے اختیار اپنے بائیں ہاتھ کو اونچا کرکے دیکھا، وہاں ایک انگوٹھی تھی۔ وہ سب کیسے بھول گئی تھی۔ وہ قدم قدم چلتی معاذ کے سامنے بیڈ پر بیٹھی۔

"تمہیں کس نے بتایا؟"

"مما نے۔ تم ان کی کال نہیں اٹھا رہی۔ وہ کہہ رہی تھیں تمہیں بتا دوں۔" وفا جواباً خاموش رہی۔

"ویسے تمہیں ایکسائٹمنٹ ہے؟ ہم لاہور میں ہوتے تو اذلان بھائی سے ضرور ملتے، اُن کا پہلا ناول میں نے پڑھا ہے۔ وہ اچھے رائٹر ہیں۔ اب سے میرے فیوریٹ بھی ہیں۔ اپنی یونیورسٹی میں بھی کافی مقبول ہیں۔ تمہیں پتہ ہے انہوں نے مجھے سائنڈ کاپی دی ہے۔ میں نے اپنے دوستوں کو بھی بتایا ہے۔۔۔" وہ کتاب چھوڑ کر جوش سے اُسے بتانے لگا۔

ہاہ! وفا نے گہری سانس بھری وہ اس کو شروع کروا چکی تھی۔ اب اگلے پانچ منٹ تک اس نے لگاتار بولتے رہنا تھا۔ اچھا خاصا پڑھاکو اور باتونی لڑکا تھا معاذ ملک۔ وہ اپنی دھن میں اذلان کی تعریفیں کیے جا رہا تھا، مگر وفا کی نظریں اپنی انگوٹھی پر جمی تھیں۔ وہ انگوٹھی جو محض ایک زیور نہیں، بلکہ ایک وعدہ تھی۔ جس کا بوجھ اسے اب اپنی انگلی پر محسوس ہو رہا تھا۔

معاذ کی آواز اب اسے دور سے آتی ہوئی محسوس ہو رہی تھی۔ اذلان یزدان کی واپسی کا مطلب تھا کہ اب اسے اپنی پیشہ ورانہ اور ذاتی زندگی کے درمیان ایک لکیر کھینچنی ہوگی۔

"وفا! تم سن رہی ہو نا؟" معاذ نے اسے خاموش دیکھ کر ٹوکا۔

"ہاں معاذ، سن رہی ہوں۔ تم بس اپنی کتاب پڑھو اور تیار ہو جاؤ، ہمیں نیچے مینجر سے میٹنگ کے لیے بھی جانا ہے۔" وفا نے معاذ سے کہا اور دوبارہ بالکونی کی طرف مڑ گئی۔

باہر سمندر کی لہریں اب پہلے سے زیادہ پرشور لگ رہی تھیں، بالکل اس طوفان کی طرح جو اذلان کے نام کے ساتھ اس کے دل میں اٹھنے لگا تھا۔

••••••••••

کراچی شہر سے میلوں دور… یہ بحرین کی گہری سیاہ رات تھی۔

وہ جان چکا تھا… اگر آج کی رات زندہ بچ نکلا، تو زندگی دوبارہ اُس کی ہوگی۔ لیکن ابھی خطرہ باقی تھا۔

وہ خفیہ کمرہ جس میں وہ اُس وقت موجود تھا، سمندر کے قریب، بحرین کے ایک پرانے ترک شدہ ساحلی گودام میں واقع تھا۔ اُس نے احتیاط سے دروازے کی درز سے جھانکا۔

باہر گارڈز ہلکی روشنی میں کھڑے تھے، نیند سے بوجھل آنکھیں، مگر ہاتھ میں پکڑے ہوئے ہتھیار۔

وہ واپس آچکے تھے۔ دروازے سے باہر نکلنے کا مطلب تھا موت کو گلے لگانا۔ اُس نے چیزیں اپنی سیاہ جیکٹ کی اندرونی جیب میں ڈالیں۔ اور اب یہاں سے نکلنے کے لیے تیار تھا۔

وہ آہستگی سے اُس کمرے کے کونے میں موجود ایک چوڑے صنعتی پائپ کی طرف بڑھا، جو شاید گودام کے نکاس کے لیے لگایا گیا تھا۔

پائپ کا دہانہ اس کے کسرتی جسم کے لیے تنگ تھا، مگر اس وقت یہی واحد راستہ تھا۔

اُس نے زمین پر گھٹنے ٹیکے، اور اپنا رخ پائپ کے اندھیرے کی جانب کیا۔ اپنے چوڑے کندھوں کو سکیڑتے ہوئے وہ کہنیوں کے بل اندر رینگنے لگا۔ زنگ آلود لوہا اس کے بازوؤں کو چھیل رہا تھا اور گرد و غبار سے اس کا دم گھٹنے لگا، مگر اس نے ہمت نہ ہاری۔ ہر انچ کا فاصلہ طے کرنے کے لیے اسے اپنے عضلات کی پوری قوت صرف کرنی پڑ رہی تھی۔

وہ کہنیوں کے بل رینگتا ہوا پائپ کے آخری سرے تک پہنچا۔ پائپ کا دوسرا سرا ایک چھوٹے سے زیرِ زمین کمرے میں کھلتا تھا، جو شاید گودام کا سروس چیمبر تھا۔ وہاں لوہے کے بڑے والوز (Valves) اور زنگ آلود مشینوں کے ڈھیر لگے تھے۔ یہ جگہ اوپر کے ہنگامے سے کٹی ہوئی اور خاموش تھی۔

جیسے ہی پائپ ختم ہوا، وہ اوندھے منہ ایک ٹھنڈے کنکریٹ کے فرش پر گرا۔ اس نے سنبھل کر اپنے چوڑے کندھوں کو جھٹکا اور کھڑے ہو کر گرد جھاڑی۔ اس کا انداز بتا رہا تھا کہ وہ ایسی مشقتوں کا عادی ہے۔

ساتھ ہی اُسے دیوار پر پرانا زنگ آلود آئرن ہُک نظر آیا۔ وہ مسکرایا۔ تیکھے نقوش پر اُس کی مسکراہٹ دل فریب تھی۔ اس نے اُسے ہاتھ میں لیا، اب یہی اُس کا ہتھیار تھا۔ پھر دروازے کی طرف بڑھا ہی تھا کہ قدموں کی آواز سنائی دی، وہ رکا، کوئی آرہا تھا۔

ایک لمحہ ضائع کیے بغیر وہ دروازے کے پیچھے ہوا۔ آنے والا شخص ابھی کمرے میں داخل ہی ہوا تھا کہ… کڑاخ!!

اُس نے پوری قوت سے ہُک اُس کی گردن کے پیچھے دے مارا۔

آدمی کے حلق سے گھٹتی آواز نکلی، وہ جھٹکے سے گرا…

لیکن اس نے اُسے مزید دو وار دے کر پوری طرح بےہوش کر دیا۔

پھر جھک کر اُس نے اُس کے پاس سے ہتھیار اٹھایا۔ ایک گن… بغیر سائلنسر کے۔ پھر یہی گن اپنے بیلٹ میں ٹھونس لی۔

اب اُسے نکلنا تھا۔ سامنے کی دیوار کے پار ایک زینہ نظر آ رہا تھا۔ شاید یہ اوپر ساحل کی طرف جاتا تھا۔

وہ بھاگتا ہوا اُس زینے تک پہنچا ہی تھا کہ اچانک بائیں طرف کی راہداری سے دو آدمی نمودار ہوئے۔

"من انتَ!؟"

(تم کون ہو؟)

اُن آدمیوں نے چلاتے ہوئے اُس سے پوچھا۔

"أبوك…"

(تمہارا باپ!)

اُس نے کہا پھر اُنہیں دیکھ کر ایک آنکھ وِنک کی۔ اور جھک کر ایک اسٹیل راڈ اُٹھائی۔ پہلے آدمی کے قریب آتے ہی اُس کے گھٹنے پر مارا۔

"کڑاخ!" پھر اس کے سر پر ایک اور ضرب لگائی۔

دوسرا فوراً گن چلاتا، اُس سے پہلے اُس نے راڈ اس کے ہاتھ پر ماری۔ گن نیچے گری، اور اگلے لمحے اُس کی ٹھوڑی پر سیدھا گھونسہ مارا۔ وہ نیچے گرا تو وہ بھاگتا ہوا زینے پر چڑھا۔

اوپر ایک چھوٹا سا لکڑی کا دروازہ تھا۔ اسے دھکیل کر کھولا… اور سامنے… بندرگاہ کا خالی ایریا۔ پرانی کشتیاں، اور پانی… مگر اُسے چلنے کا وقت نہیں ملا۔ کیوں کہ پچھلے زینے سے گارڈز کا شور سنائی دینے لگا تھا۔ وہ تیزی سے بھاگنے لگا…

ریت، پانی، ملبہ… ہر چیز اُس کے قدموں تلے آرہی تھی۔ دور ایک بجری سے بھرا ٹرک کھڑا تھا۔ اُس کے نیچے چھپنے کے سوا اور کوئی راستہ نہ تھا۔ وہ فوراً اس کے نیچے گھسا اور خود کو چھپایا۔ جلد ہی گارڈز وہاں تک پہنچ چکے تھے۔

"هو لا يستطيع الهروب بعيدًا!"

(وہ دور نہیں جا سکتا!)

وہ چلاتے، آگے کی طرف بڑھ گئے۔ وہ اُن کے دور جانے تک دبکا لیٹا رہا۔ لیکن وہ زیادہ دیر چھپا نہیں رہ سکتا تھا۔ چند لمحوں بعد وہ جیسے ہی بجری والی جگہ سے نکلا اُس نے گن نکالی مگر رک گیا۔

سامنے مرمت شدہ پرانی کشتی کے عقب میں تین آدمی تھے۔ اُن کے ہوتے ہوئے وہ باحفاظت یہاں سے نہیں نکل سکتا تھا۔ ایک بھی لمحہ ضائع کیے بغیر وہ آگے بڑھا۔

پہلے آدمی پر وہ جھپٹا، گھٹنے کا وار سیدھے اُس کے پیٹ میں پڑا اور وہ آدمی پیچھے جا گرا۔

دوسرا شخص پیچھے سے اس پر چڑھا، مگر اس نے پوری طاقت سے اپنی کہنی اُس کی ناک پر ماری۔ تڑاخ کی آواز کے ساتھ اس کی ناک کی ہڈی ٹوٹی اور خون کا فوارہ چھوٹا۔

اسی زخمی ناک اور اُس کے جبرے پر اپنے فولادی مکّے رسید کیے تو وہ آدمی پیچھے کی جانب ڈھے گیا۔ چند سیکنڈز کی بات تھی اور وہ آدمی اگلے چند لمحے کچھ کرنے کے قابل نہیں رہا تھا۔

تیسرا آدمی سانپ کے ٹیٹو والا، گن نکال چکا تھا۔ لیکن اس نے اس سے پہلے ہی وہاں موجود لوہے کے پرزے کی نوک اُس کے ہاتھ پر ماری اور گن نیچے گری، ساتھ ہی اُس نے اس ٹیٹو والے کا سر کشتی کی دیوار سے مارنا شروع کر دیا۔ ایک، دو، تین، پھر اس کی پسلیوں کے درمیان اپنا گھٹنا زور سے مارا۔ وہ کراہتا ہوا پیچھے کو گر گیا۔

لیکن پھر انہی آدمیوں میں سے ایک نے ایک چھوٹا سا چاقو کمر کی جانب سے اُس کے کاندھے میں گھونپ کر نکالا۔ اسے درد ہوا اور بے اختیار جھٹکا دیا۔

مگر وہ گرا نہیں خود کو سنبھالا، پلٹا اور اس حملہ آور کو زمین پر پٹخ کر اس کے چہرے پر گھونسے مارنے لگا۔ ایک، دو، تین۔۔۔

یہاں تک کہ وہ آدمی بھی بے ہوش ہو گیا۔ وہ گھٹنوں کے بل بیٹھا۔ جیکٹ کی وجہ سے زیادہ نقصان نہ ہوا تھا۔ لیکن اس کے پاس وقت نہیں تھا۔

اُس نے نظر دوڑائی تو دور ایک پرانا زنگ آلود اسٹور نظر آیا۔ اُس کی آنکھیں چمکیں۔ دروازے پر اسٹور 16 لکھا تھا۔ اسے اشارہ مل چکا تھا۔

وہ دوڑتا ہوا اُس کے پاس پہنچا۔ دروازہ تھوڑا سا دھکیلا اور وہ کھل گیا۔ اندر پرانے ڈرم، رسیاں، اور سڑی ہوئی مچھلی کے خالی کریٹ رکھے تھے۔ ایک دیوار کے ساتھ پھسلتی ہوئی سیڑھیاں نیچے جا رہی تھی۔ وہ نیچے اُترا، اب سانس دھونکنی کی طرح چل رہی تھی مگر حواس مکمل بیدار تھے۔

نیچے ایک سرنگ تھی۔ شاید پرانی اسمگلنگ کے راستے۔ تقریباً دس منٹ چلنے کے بعد اُس نے دیکھا ایک چھوٹا سا آہنی دروازہ سرنگ کے آخر میں تھا۔ اُس نے اسے دھکیل کر دیکھا۔ سامنے سیڑھیاں تھیں۔ وہ سیڑھیاں چڑھتا وہاں سے نکلا۔ سامنے کھجور کے درختوں کا جھنڈ تھا۔

رات آدھی سے زیادہ گزر چکی تھی۔ اب بس اسے انتظار کرنا تھا۔

•••••••••

یہ گھر، شہر کی ہنگامہ خیزی سے دور، ایک چھوٹے پرسکون علاقے میں بنا ہوا تھا۔

اور اگر اس گھر کی ایک بالکونی پر نظر ڈالو جہاں نیلے رنگ کے لوہے کے جنگلے پر سفید گملوں میں سرخ، گلابی اور جامنی پھول کھِلے ہوئے تھے۔

وہاں بانس کی دو آرام دہ کرسیاں دھری تھیں، جن پر گلابی گدے اور خوش رنگ پھولوں والے کشن رکھے تھے۔

سامنے ایک چھوٹی سی لکڑی کی میز رکھی تھی، جس پر چائے کے کپ اور ایک چھوٹا سا سفید گلدان پڑا تھا۔

بالکونی کے دروازے پر قدم رکھتے ہی وہ ٹھٹھک گئی۔

بانس کی کرسی پر رکھا وہ گلابی کشن… اُسے کچھ یاد آیا۔

اس نے ہلکی سی مسکراہٹ لبوں کے کنارے سمیٹ لی، اور جا کر اسی کرسی پر بیٹھ گئی۔ سامنے لکڑی کی میز پر ابھی بھی دو کپ پڑے تھے، جیسے وقت رک گیا ہو۔

جیسے وہ لمحہ، وہ چائے، وہ باتیں، ابھی بھی وہیں کہیں گمشدہ سانسوں میں قید ہوں۔

دیوار پر لگا چھوٹا سا شیلف، تین منزلوں پر چھوٹے چھوٹے گملے، اور سب سے اوپر سفید پھول۔

کتنے دن گزر گئے تھے؟

کتنے موسم آئے اور چلے گئے؟

لیکن اس جگہ کی خاموشی میں وہی پرانی باتیں، وہی پرانے لمحے، ویسے کے ویسے ٹھہرے ہوئے تھے۔

اس نے آہستہ سے آنکھیں بند کیں، اور پھر اس کی سوچوں کا تسلسل بہتا چلا گیا…

زندگی، وہ دریا ہے جو ہمیشہ ایک سا نہیں بہتا۔

کبھی یہ نرمی سے کناروں کو چومتا ہے،

اور کبھی طوفان بن کر سب کچھ بہا لے جاتا ہے۔

ہم اکثر سوچتے ہیں کہ وقت کا پہیہ صرف لینے آیا ہے۔ خواب، سکون، اپنوں کی موجودگی، سب چھین لینے۔

لیکن نہیں… ایسا ہر بار نہیں ہوتا۔ کبھی وقت بس وہی کچھ لے جاتا ہے جو ہماری ذات کے لیے بوجھ بن چکا ہوتا ہے یا جس کی میعاد ختم ہو چکی ہوتی ہے۔

اکثر انسان اُس دروازے سے مایوس لوٹتا ہے، جسے وہ برسوں سے کھٹکھٹا رہا ہوتا ہے۔

مگر اللہ اُسے اُس کھڑکی کے سامنے لا بٹھاتا ہے، جس کے بارے میں کبھی اُس نے سوچا تک نہیں ہوتا۔

وہ کھڑکیاں، جو بند تھیں…

اچانک کسی نسیمِ صبا کے جھونکے سے کھلنے لگتی ہیں۔

انسان حیران ہو کر کہتا ہے:

"یہ در تو کبھی کھٹکھٹایا ہی نہیں تھا…"

زندگی کا رُخ وہیں بدلتا ہے، جہاں انسان کا ضبط ٹوٹنے لگتا ہے۔

جہاں امیدیں مر جاتی ہیں، وہیں رب اپنے فیصلے زندہ کر دیتا ہے۔

اور پھر وہ دل، جو تلخ جذبات کی مٹی میں ملا ہوا ہوتا ہے، وہیں سے کونپل کی طرح اُگنے لگتا ہے۔

وہ زخم جو کبھی رس رہے ہوتے تھے، وہی مرہم بننے لگتے ہیں۔

اور جس راستے کو ہم بند گلی سمجھتے ہیں، اللہ وہیں سے روشنی کی ایک باریک سی لکیر چمکا دیتا ہے…

اپنے وجود میں اترتے ان خیالوں نے اسے یاد دلایا کہ وقت کتنی تیزی سے سرک گیا ہے۔ اس کی شادی کو چار سال کا عرصہ ہو چکا تھا۔

اُس کی اب تک کی اپنی زندگی بھی انہی چیزوں کا گہوارا تھی۔

یہ سب سوچتے ہوئے وہ مسکرا دی، دل میں ایک سکون سا اترنے لگا تھا۔

••••••••••

دہلی میں موجود اس پرانے برگد کے درخت کے قریب بنا وہ ورِدھ آشرم ایک ایسی جگہ تھا، جہاں وہ چہرے بستے تھے جنہیں وقت نے اور اپنوں نے فراموش کر دیا تھا۔

یہ اولڈ ایج ہوم دہلی کے ایک نسبتاً خاموش علاقے میں واقع تھا۔ اُس وقت بھی اس ورِدھ آشرم کے صحن میں دو تین بزرگ اپنی اپنی کرسیوں پر بیٹھے تھے۔ کوئی پرانے اخبار کی مڑی تڑی کاپی کے تصویری حصے میں گم تھا۔ تو کوئی آنکھیں موندے دھوپ کی گداز کرنوں میں بیٹھا تھا۔

اندرونی ہال کے دروازے کے قریب، نرس نما ایک کارکن، کامنی، ایک بزرگ کو دوا دینے کی کوشش کر رہی تھی۔

"دادا جی، پلیز دوا لے لیجیے، ڈاکٹر نے کہا ہے روز کی خوراک بہت ضروری ہے..."

مگر وہ بزرگ، جنہیں سب "دادا جی" کہتے تھے، چہرے پر بیزاری سجائے نفی میں سر ہلائے جا رہے تھے۔

"نہیں چاہیے... ہر روز یہی کڑوی چیز، تھک گیا ہوں ان دوائیوں سے۔"

اسی لمحے سامنے والے کمرے سے وہ نکلتی دکھائی دی۔

اُس نے ہلکے گلابی رنگ کی کاٹن کی سادہ سی ساڑھی پہنی ہوئی تھی۔ آستینیں مکمل تھیں اور بلاؤز کا ڈیزائن نہایت مہذب تھا۔ وہ روایتی انڈین لباس میں تھی مگر مہذب سلیقہ نمایاں تھا۔

سورج کی سنہری کرنیں انوشے کے شفاف چہرے پر پڑیں۔ اس کے نقوش ملائم سا تاثر دیتے تھے۔ آنکھیں بھوری بادامی سی تھیں جنہیں کاجل کے حلقے میں لیا ہوا تھا۔ گھنے سیاہ بال آج نفاست سے جوڑے میں بند تھے۔

اُس کے ہاتھ میں فولڈ کی ہوئی ایک صاف چادر تھی۔ وہ منظر دیکھ کر رکی، پھر آہستہ سے چلتی ہوئی دادا جی کے قریب آئی۔

"دادا جی؟"

دادا جی نے گردن موڑی، پھر نظریں پھیر لیں۔

"پھر دوا لینے کی ضد ہے؟"

انوشے مسکرائی پھر اُن سے کہا۔

"پتا ہے، میرے نانا کہا کرتے تھے کہ کڑوی چیز ہمیشہ فائدہ دیتی ہے۔ چاہے وہ بات ہو، یاد ہو یا دوا۔"

دادا جی نے بے دلی سے رخ موڑا۔

"اور ویسے بھی،" وہ شرارت سے جھکی، "اگر آپ صحت مند رہیں گے تو ہی میں آپ کو روز شام کی چائے کے ساتھ وہ مٹھائی کھلاؤں گی نا جو آپ کو سب سے زیادہ پسند ہے..."

یہ سنتے ہی دادا جی کے چہرے پر ہلکی سی شریر مسکراہٹ ابھری۔

"بس... اسی لالچ میں دے رہی ہو دوا؟"

انوشے نے شرارتی انداز میں سر ہلایا،

"جی ہاں، بالکل۔ مگر مٹھائی صرف دوا کے بعد۔"

دادا جی نے گہری سانس لے کر خاموشی سے دوا تھام لی۔

کامنی نے حیرت سے انوشے کو دیکھا، تو انوشے دھیرے سے مسکرا دی۔ مسکرانے پر اُس کے ہونٹوں کے کناروں سے ذرا نیچے گڑھے پڑتے تھے جو اُس کی مسکراہٹ کو منفرد اور خُوبصورت بناتے تھے۔

"دادا جی، آپ روز اسی جگہ پر کیوں بیٹھتے ہیں؟" انوشے نے اُن سے پوچھا۔ اور اُن کے ساتھ دوسری کرسی گھسیٹ کر بیٹھ گئی۔

دادا جی اب چائے کا کپ پکڑ چکے تھے۔ پھر چائے کی چسکی لی، اور مسکرا کر بولے،

"کیونکہ یہاں سے پورا آسمان دکھتا ہے... اور آسمان وہی چیز ہے جو آج تک کبھی میرے قابو میں نہیں آیا۔"

انوشے کی بھوری بادامی آنکھوں میں حیرت اُبھری،

"آسمان؟ قابو میں؟"

دادا جی ہنسے، چہرے کی جھریوں میں کچھ اور اضافہ ہوا۔

"بس یوں سمجھ لو... زندگی میں کئی بار لگا کہ بس... اب سب کچھ سمجھ لیا، سب کچھ حاصل کر لیا۔ مگر ہر بار کوئی نہ کوئی چیز ایسی ملی جو میرے بس کی نہ رہی۔ آسمان کی طرح، پاس ہو کر بھی دور۔ کچھ خواب، کچھ لوگ، اور کچھ وعدے... ادھورے رہ گئے۔"

جواباً انوشے نے پوچھا۔

"تو کیا آدمی کو سب کچھ نہیں ملتا؟"

"نہیں بٹیا! انسان کو سب کچھ نہیں ملتا، اور سب کچھ مل جانا تو انسان کی ہلاکت ہے۔ قدرت ہمیں وہ نہیں دیتی جو ہم مانگتے ہیں، بلکہ وہ دیتی ہے جو ہمارے لیے بہتر ہوتا ہے۔ بس جس نے 'تقسیم' پر راضی ہونا سیکھ لیا، اس نے کائنات جیت لی۔"

اب بس چائے کی ہلکی ہلکی چسکیاں اور آسمان کی بدلتی روشنی تھی…

انوشے کے لیے یہ جگہ صرف ایک نوکری کا نہیں بلکہ سیکھنے کا مکتب بن گئی تھی۔

اس کا اپنا قصہ بھی کم زخم زدہ نہ تھا۔

انوشے ظفر دہلی کے ایک مسلم اکثریتی محلے جامع نگر میں پیدا ہوئی تھی۔ اس کے والد ایک مدرسے کے اُستاد تھے اور ماں ایک خاتونِ خانہ۔ سادہ، باوقار، اور روایتی مگر محبت کرنے والے لوگ۔

انوشے کا بچپن محدود تھا، مگر محفوظ…

لیکن جب انوشے نو سال کی تھی، اس کے ماں باپ ایک حادثے میں وفات پا گئے۔ کسی سیاسی مظاہرے کے دوران ہونے والی جھڑپ میں، والد غلط وقت پر غلط جگہ تھے… اور ماں دل کا دورہ سہہ نہ سکیں۔

پھر وہ اپنے نانا کے ساتھ رہنے لگی اور اس کی تقریباََ پندرہ سال کی عمر میں وہ بھی چل بسے۔

تب، ایک NGO کے توسط سے اسے دہلی کے مضافاتی علاقے میں واقع ایک چھوٹے یتیم خانے کے حوالے کر دیا گیا۔ یہ جگہ نہ بدترین تھی، نہ شاندار۔ وہاں چھت تھی، کھانا تھا، مگر کوئی گود نہیں تھی۔

وہیں انوشے نے دھیرے دھیرے کتابوں سے دوستی کی تھی۔ مقامی سرکاری اسکول پھر کالج اور یونیورسٹی سے پڑھائی مکمل کی، تو NGO نے اسے اولڈ ایج ہوم میں ہیلپر کی جاب دلوا دی، جہاں رہائش، کھانا، اور چھوٹی تنخواہ سب شامل تھے۔

اب وہ یہیں رہتی تھی۔ اوپر والی منزل میں ایک چھوٹا کمرہ اُس کی رہائش تھا۔

دادا جی اور بھی باتیں کر رہے تھے۔ انوشے ٹھوڑی پر ہاتھ رکھے اُن کی باتیں سن رہی تھی۔ نظریں آسمان کی طرف تھیں، اس سوچ میں گم کہ اس کا اپنا آسمان کب اور کہاں ملے گا۔

انسان چاہتا ہے کہ وہ آسمان کی سب پتنگیں لوٹ لے، مگر اس کے ہاتھ میں صرف وہی ڈور آتی ہے جو اس کے نصیب کی ہوتی ہے۔ جب تک انسان 'سب کچھ' کے پیچھے بھاگتا ہے، وہ دکھی رہتا ہے۔ جس دن وہ 'جو مل گیا اس کی قدر' کرنے لگتا ہے اسی دن اسے حقیقی سکون مل جاتا ہے۔

••••••••••

کمرہ جماعت میں خاموشی چھائی ہوئی تھی۔

کمرے کے دروازے سے پروفیسر صوفیہ اندر داخل ہوئیں۔ وہ سفید کاٹن کی شلوار قمیص میں ملبوس تھیں، آنکھوں پر نظر کی سنہری عینک، اور چال میں وہی اعتماد تھا جو برسوں کی تدریسی محنت کا ثمر تھا۔

پروفیسر صوفیہ نے ٹیبل پر رکھی فائل کو کھولا اور کلاس کی طرف نظریں گھماتے ہوئے نرمی سے بولیں:

"مجھے امید ہے آپ سب کو یاد ہوگا کہ میں نے پچھلے ہفتے آپ لوگوں کو ایک پروجیکٹ دیا تھا، جس پر آپ نے نہ صرف ریسرچ کرنی تھی بلکہ اس کی باقاعدہ پریزنٹیشن بھی تیار کرنی تھی۔

آپ سب جانتی ہیں کہ پریزنٹیشن آپ کے گریڈز کا ایک اہم حصہ بنے گی۔ لیکن اس سے بھی زیادہ اہم چیز، جب آپ اس کلاس سے نکل کر عملی دنیا میں جائیں گی، تو وہاں کسی کو آپ کی تحریریں یا نوٹس نہیں دیکھنے۔ وہاں آپ کا اندازِ گفتگو، آپ کی باڈی لینگویج، اور یہ کہ آپ اپنی بات دوسروں کے سامنے پیش کیسے کرتی ہیں، یہ سب سے زیادہ دیکھا جائے گا۔"

ایک لمحے کو خاموشی چھا گئی۔

"ایک اچھا خیال، اگر صحیح انداز میں پیش نہ کیا جائے، تو وہ اکثر ضائع ہو جاتا ہے۔

اور ایک عام سا خیال، اگر پُراعتماد انداز میں پیش کیا جائے، تو وہ سامعین پر اثر کرتا ہے۔"

پھر وہ کلاس کی ایک طرف بڑھیں اور بولیں:

"اب بتائیں، کس کس نے پریزنٹیشن تیار کی ہے؟"

دو تین ہاتھ ہچکچاتے ہوئے اوپر اٹھے۔

وہ ٹھہریں، پھر ایک طرف بیٹھی لڑکی کی طرف اشارہ کیا جس کا ہاتھ اوپر تھا۔

پروفیسر صوفیہ نے لڑکی کی پریزنٹیشن مکمل ہونے کے بعد دھیرے سے بولنا شروع کیا:

"اکثر طالب علم یہ سمجھتے ہیں کہ اگر وہ اچھا لکھ لیں، تو کافی ہے۔ لیکن حقیقت یہ ہے کہ لکھے ہوئے الفاظ اس وقت تک مکمل نہیں ہوتے، جب تک ان میں تاثر اور پیش کش شامل نہ ہو۔ امتحانات میں، اسائنمنٹس میں، آپ کا مواد جتنا بھی زبردست ہو، اگر اسے پیش کرنے کا انداز کمزور ہو، تو اس کا اثر بھی ماند پڑ جاتا ہے۔

لیکن بات یہاں ختم نہیں ہوتی۔ یہ پریزنٹیشن صرف کاغذوں میں نہیں، ہماری روزمرہ زندگی میں بھی ہر جگہ موجود ہوتی ہے۔

جب آپ کسی سے بات کرتی ہیں، آپ کا انداز، آپ کا لباس، آپ کی زبان، آپ کی آنکھیں… یہ سب کچھ آپ کی شخصیت کی پریزنٹیشن ہوتے ہیں۔"

وہ لمحہ بھر رکیں، پھر بولیں؛

"اور اگر بات ہو دین کی، تو وہاں پریزنٹیشن اور بھی زیادہ اہم ہو جاتی ہے۔

نماز کو لیجیے... کیا صرف وقت پر ادا کر دینا کافی ہے؟ نہیں۔ اصل سوال یہ ہے کہ ہم اللہ کے سامنے کیسے کھڑے ہوتے ہیں؟ ہمارے دل کا حال کیا ہے؟ ہم نے کیسا لباس پہنا؟ ہم نے کس خضوع و خشوع سے نماز پڑھی؟ کیا ہم نے اس نماز کو ویسا پیش کیا جیسا کسی بادشاہ کے دربار میں پیش ہوتے ہیں؟"

کلاس روم کی کھڑکی سے آتی سورج کی سنہری کرنیں اُن کے چہرے پر پڑ رہی تھیں اور ان کی شفاف رنگت دمک رہی تھی۔

"قرآن... وہ اللہ کا کلام ہے۔ کیا ہم اسے جلدی جلدی، بنا سمجھے، بس مکمل کرنے کی نیت سے پڑھتے ہیں؟

یا ہم اسے ادب، محبت اور غور و فکر سے پڑھتے ہیں؟

اللہ تعالیٰ کو آپ کا مواد معلوم ہے، وہ دلوں کا حال جانتا ہے، مگر... پیش کش بھی دیکھتا ہے۔"

پروفیسر صوفیہ تسلسل کے ساتھ بولتی تھیں مگر الفاظ واضح ہوتے تھے۔

"سوچیے، ہم انسانوں کے آگے خود کو کیسے اچھا بنا کر پیش کرتے ہیں، اور اللہ کے سامنے ہم کتنے لاپروا ہو جاتے ہیں۔

بات کو صرف کہنا نہیں ہوتا، اس کا حق ادا کرنا ہوتا ہے… اور ہر حق کی ایک خوبصورت پیش کش ہوتی ہے۔

اکثر طلبہ سوچتے ہیں کہ کچھ لڑکیاں یا لڑکے ایسے ہوتے ہیں جن کا کام ہر بار استاد کو پسند آجاتا ہے، حالانکہ مواد شاید باقیوں جیسا ہی ہو۔ تو آخر فرق کیا ہوتا ہے؟

فرق ہوتا ہے "پیش کش" یعنی Presentation کا۔

جب کوئی طالب علم ہوم ورک یا اسائنمنٹ کو صرف اس نیت سے مکمل کرتا ہے کہ بس جمع کرا دوں، تو اس کے کام میں وہ جان، وہ محنت، وہ خلوص نہیں ہوتا۔ اور استاد، چاہے جتنا بھی نرم دل ہو، یہ فرق محسوس کر لیتا ہے۔"

انہوں نے ایک لمحے وقفہ لیا پھر کہا؛

"لیکن جو طالب علم اپنے الفاظ کو سلیقے سے لکھتا ہے، تو استاد اس کی محنت کو پہچان لیتا ہے۔ ایسے طالب علم اکثر استاد کے پسندیدہ بھی بن جاتے ہیں۔

اور یہی معاملہ ہمارے رب کے ساتھ تعلق میں بھی ہوتا ہے۔

نماز صرف ایک فرض نہیں کہ بس اٹھو، جلدی جلدی پڑھو اور فارغ ہو جاؤ۔ نہیں، نماز ربّ کے سامنے حاضری ہے۔

اللہ تعالیٰ ہر دل کے حال کو جانتا ہے۔ لیکن پھر بھی وہ ان بندوں کو زیادہ محبوب رکھتا ہے جو نماز میں قیام کرتے ہیں۔

یعنی جو نہ صرف الفاظ ادا کرتے ہیں، بلکہ اپنے دل، دماغ، جسم اور جذبے کے ساتھ اس میں شامل ہوتے ہیں۔

جیسے استاد کو وہ ہوم ورک پسند آتا ہے جس میں ترتیب ہو، لگن ہو، ویسے ہی ربّ کو وہ نماز زیادہ پسند آتی ہے جس میں خشوع ہو، توجہ ہو، حیا ہو، احساس ہو۔"

گہری سانس بھر کر انہوں نے کہنا جاری رکھا۔

"اور وہ بندہ، جو قرآن سیکھنے کے سفر میں ہے۔ چاہے تلفظ میں اٹکتا ہے، رکتا ہے، اسے الفاظ دہرانے پڑتے ہیں۔ لیکن پھر بھی محنت سے پڑھتا ہے، اسے سمجھنے کی کوشش کرتا ہے، ترجمہ پڑھتا ہے، آنکھوں میں نمی لیے ہر آیت میں اپنی زندگی تلاش کرتا ہے…

ایسا بندہ اللہ کو انتہائی محبوب ہوتا ہے۔

یہی وہ "روحانی پریزنٹیشن" ہے۔

اللہ کو صرف ہمارا لہجہ، آواز اور الفاظ کا روان ہونا نہیں چاہیے ہوتا۔ بلکہ وہ نیت، محنت، خلوص اور پیش کش کا جذبہ بھی دیکھتا ہے۔

جو بندے قرآن صرف "پڑھنے" پر اکتفا نہیں کرتے بلکہ اس میں غوطہ لگاتے ہیں، اس کا ترجمہ سمجھتے ہیں، غور کرتے ہیں، اپنے دل کو اس کے سانچے میں ڈھالنے کی کوشش کرتے ہیں۔ تو ان کا یہ عمل رب کے ہاں خاص درجہ رکھتا ہے۔"

اپنی بات کا اختتام کرتے ہوئے انہوں نے کہا؛

"پریزنٹیشن صرف پرچے میں نہیں،

عبادت میں بھی "پیش کش" ہی تعلق کو خاص بناتی ہے۔"

لڑکیاں اُن کی طرف متوجہ تھیں۔ پروفیسر صوفیہ انہی باتوں کی وجہ سے اکثر لڑکیوں کی فیوریٹ تھیں۔

"خیر اب آتے ہیں آج کے لیکچر کی طرف، آپ میں سے کون ریڈنگ کرے گا؟"

کلاس میں "پروفیسر میں"، "میم میں"، کی آوازیں آنے لگی تھیں۔

پروفیسر صوفیہ جانتی تھیں اُن کی کہی بات اثر کرے گی، مگر کس طالبہ پر کتنی اور کب تک اثر رہے گا، یہ اُن کے اپنی ظرف پر منحصر تھا۔ وہ اپنا فرض ادا کر چکی تھیں۔

••••••••••

جس طرح اُسے وہاں لایا گیا تھا، وہ جان چکی تھی کہ اس جگہ سے نکلنا اتنا آسان نہیں ہوگا۔ اُس کی چھٹی حس نے اس مقام کی سختی اور قید کا اندازہ بہت پہلے ہی لگا لیا تھا۔

مگر اب چاہے جیسے بھی ہو، اُسے یہاں سے نکلنا تھا۔ اس کے ہاتھ میں ایک چھوٹا سا ہتھوڑا تھا، جسے وہ مٹھی میں مضبوطی سے تھامے ہوئے تھی۔

وہ خاموش قدموں سے اس کمرے سے باہر نکلی۔

ایک لمحے کے لیے پیچھے مڑ کر اُس شخص کو دیکھا، جسے وہ دنیا سے ہمیشہ کے لیے فارغ کر چکی تھی۔ پھر اُس نے گردن موڑ کر آس پاس کا جائزہ لیا۔

سامنے کی طرف دیوار تھی، اور دائیں بائیں طویل، سنسان راہداریاں پھیلی ہوئی تھیں۔ اس وقت وہاں کوئی موجود نہیں تھا۔ صرف خاموشی کا ایک بوجھل ہالہ۔

دائیں جانب کی راہداری تھوڑی دور جا کر ختم ہو جاتی تھی، جہاں دو تین کمرے بنے ہوئے تھے۔ اُن کمروں کے دروازے کھلے تھے، اور اُن میں سناٹا آباد تھا۔

اُس نے بائیں طرف قدم بڑھائے اور دیوار کے ساتھ ساتھ سیدھی چلنے لگی۔ اُس کے قدم ہلکے تھے، مگر ذہن مکمل طور پر چوکنا۔

راہداری کے اختتام پر کچھ فاصلے پر سیڑھیاں نظر آئیں جو اوپر کی طرف جاتی تھیں۔ بائیں طرف ایک اور راہداری تھی، اور دائیں طرف سیڑھیوں کے ساتھ ایک کمرہ بھی موجود تھا۔ کمرے کے ساتھ ایک اور راستہ موجود تھا۔

وہ لمحہ بھر کو الجھن میں پڑ گئی۔ ذہن تیزی سے چکرانے لگا۔ کدھر جانا چاہیے؟ کون سا راستہ بہتر ہے؟ دائیں یا بائیں؟ اوپر یا نیچے؟

اچانک اُس کے کانوں میں دروازہ کھلنے کی آواز پڑی۔ دل کی دھڑکن ایک لمحے کو رک سی گئی۔

وہ آواز دائیں جانب سے آئی تھی۔ دائیں طرف کمرے سے ایک آدمی باہر نکلتا دکھائی دیا۔

وہ شخص باہر نکلتے وقت اپنے ہاتھ میں پکڑی ہوئی پستول کی طرف متوجہ تھا، اُسے اندازہ نہیں تھا کہ اُس کے گرد خطرہ منڈلا رہا ہے۔

جبکہ دوسری طرف اس نے ایک لمحے کی بھی تاخیر نہیں کی اور برق رفتاری سے اُس کی طرف بڑھی۔ آدمی نے حیرت سے سر اُٹھایا، مگر تب تک دیر ہو چکی تھی۔

وہ اپنے ہاتھ میں پکڑا ہتھوڑا اُس کے سر پر دے مار چکی تھی۔ ایک بھاری اور کرخت ضرب کی آواز آئی اور وہ شخص جھٹکے سے زمین پر گرا۔

اُس کے ہاتھ سے پستول چھوٹ کر کچھ فاصلے پر جا گری۔ وہ فوراً لپکی، پستول اٹھائی اور اُسے اپنی پینٹ کی جیب میں اڑس لیا۔

پھر اُس نے اسی کمرے کا دروازہ کھولا، جو پاس ہی تھا۔ کمرہ خالی پڑا تھا، بس چند ڈبے اور بکھرا سامان موجود تھا۔ اُس نے ایک گہرا سانس لیا، گردن گھمائی اور نیچے پڑے اُس زخمی اور بےہوش آدمی کو گھسیٹ کر اندر لے جانے لگی۔

اُس کی ہر حرکت میں جلدی تھی، لیکن احتیاط بھی۔ اُس کی سانسیں پھول رہی تھیں، پسینہ پیشانی سے ٹپک رہا تھا۔ اندر ہی اندر خوف پل رہا تھا کہ کسی بھی لمحے، کسی بھی راہداری سے کوئی آ سکتا ہے۔

ابھی اُس نے کمرے سے باہر نکل کر دروازہ بند ہی کیا تھا کہ اُسے ساتھ والی راہداری سے کئی قدموں کی چاپ سنائی دی۔ وہ آوازیں اسی سمت بڑھ رہی تھیں جہاں وہ موجود تھی۔ اس کے جسم میں ایک جھٹکا سا آیا، مگر وہ تیزی سے سنبھلی۔

اُس نے فوراً فیصلہ کیا اور دائیں جانب اوپر کو جاتی سیڑھیوں کی طرف تیز قدم بڑھا دیے۔

دوسری صورت میں اگر وہ وہیں ٹھہرتی، تو لازمی طور پر اُن کے سامنے آ جاتی۔ اُسے اُن کی تعداد کا اندازہ نہیں تھا، اس لیے ان سے مقابلے کا خطرہ مول نہیں لے سکتی تھی۔ چنانچہ اُس نے خاموش مگر تیز قدموں سے سیڑھیاں چڑھنا شروع کر دیں۔

وہ آگے بڑھتے ہوئے مسلسل پیچھے بھی دیکھ رہی تھی۔ کہیں وہ لوگ مڑ نہ آئیں، یا اچانک اُسے دیکھ نہ لیں۔

بالآخر وہ سیڑھیوں کے آخری زینے تک پہنچی، اور بنا لمحہ ضائع کیے جھٹ سے دائیں جانب والی دیوار کی طرف ہو گئی۔

اُس کے وجود نے دیوار کا سہارا لیا، جیسے خود کو پسِ پردہ کر لیا ہو۔ اُس کے چہرے پر تناؤ تھا، مگر آنکھوں میں اب بھی وہی عزم تھا۔ ہر حال میں بچ نکلنے کا، ہر قیمت پر آزادی کا۔

اب وہ نیچے سے اُن کی نظروں سے اوجھل ہو چکی تھی۔ فی الحال تو وہ اُن کے سامنے آنے سے بچ گئی تھی، مگر اُسے یقین نہیں تھا کہ اُن کا رخ کس طرف ہوگا۔ یہ بھی ممکن تھا کہ وہ بھی اُسی سمت آرہے ہوں جہاں وہ کھڑی تھی۔

اس نے گہری سانس لی، سیڑھیوں کے اختتام پر بس ایک ہی راستہ تھا، جس پر وہ اب کھڑی تھی۔ اُس نے احتیاط سے قدم آگے بڑھایا۔

اس نے تنگ راہداری میں موجود دروازوں کے سامنے سے گزرتے ہوئے بےحد احتیاط برتی۔ وہ اس حد تک محتاط تھی کہ اگر اندر کوئی موجود بھی ہوتا، تو اُسے اُس کے گزرنے کا ذرا سا بھی احساس نہ ہوتا۔

راہداری کے اختتام پر سامنے کا راستہ بند تھا۔ اب صرف دائیں اور بائیں طرف دو اور راستے باقی تھے۔ اس نے ایک لمحے کو رُک کر دونوں سمتوں کا جائزہ لیا۔

اچانک اُسے دائیں طرف سے کسی کے آنے کا احساس ہوا۔

لیکن وہ حملے کے لیے پوری طرح تیار تھی۔ جیسے ہی وہ آدمی اُس طرف آیا، وہ بجلی کی سی تیزی سے اُس پر جھپٹی۔ اُس نے اُسے سنبھلنے، یا کچھ بھی کرنے کا موقع دیے بغیر اُس کی گردن میں موجود ایک مخصوص رگ کو دبا دیا، جو وہ پہلے سے جانتی تھی۔ صرف چند لمحے لگے، اور وہ شخص بےحس و حرکت زمین پر گر چکا تھا… بے ہوش۔

مگر اُس کے کان ایک لمحہ بھی غافل نہ تھے۔ اُسی لمحے، پیچھے سے کسی کے چیخنے کی آواز سنائی دی۔

وہ فوراً دائیں جانب ہی بھاگنے لگی۔ راہداری کے اختتام پر دائیں طرف ایک اور راستہ تھا، جبکہ سامنے نیچے کو جاتی سیڑھیاں۔ اُس نے ایک لمحے کا بھی توقف نہ کیا۔ وہ انہی سیڑھیوں کی طرف لپکی، اور تیزی سے، تقریباً دوڑتے ہوئے، نیچے اُترنے لگی۔

سیڑھیاں مڑتی جا رہی تھیں، اور اُس کے قدم ہر زینے پر تیزی سے پڑ رہے تھے۔

وہ پستول چلانے کا خطرہ مول نہیں لے سکتی تھی۔ اُس کے پاس موجود ہتھیار پر سائلنسر نصب نہیں تھا، اور گولی چلنے کی صورت میں آواز گونج کر پورے مقام پر پھیل جاتی۔ وہاں موجود باقی تمام افراد فوراً چوکس ہو جاتے۔ اور اس وقت ایسا کوئی خطرہ مول لینا اُس کے لیے خودکشی کے مترادف تھا۔

سیڑھیاں اُترتے ہوئے، اُسے سامنے سے ایک اور آدمی اُوپر کی طرف آتا دکھائی دیا۔ اُس شخص نے جیسے ہی اسے دیکھا، اُس کا ہاتھ فوراً جیب میں رکھی پستول کی طرف بڑھا۔ مگر اس نے ایک لمحے کی تاخیر کیے بغیر بجلی کی سی تیزی سے اپنی ٹانگ گھما کر اُسے بھرپور ضرب لگائی۔

وہ شخص لڑکھڑایا، اور اُس کا سر زوردار انداز میں سیڑھیوں کی ریلنگ سے جا ٹکرایا۔ اُس کے منہ سے کراہ نکلتی ہی تھی کہ اس نے لپک کر اُس کا سر دونوں ہاتھوں سے پکڑا اور زور سے دیوار پر دے مارا۔

ایک بھاری آواز گونجی، اور وہ شخص بےسدھ ہو کر سیڑھیوں پر نیچے کی طرف لڑھکنے لگا۔

وہ اس کے جسم کے اوپر سے پھلانگتی ہوئی مزید تیزی سے نیچے اترنے لگی۔ ہر زینہ جیسے اُس کے لیے زندگی اور موت کا فاصلہ طے کر رہا تھا۔

وہاں سے جلد از جلد نکلنا تھا۔ سیڑھیاں ختم ہو چکی تھیں، اور سامنے ایک بڑا سا ہال نمودار ہوا۔

اُس ہال کے چاروں اطراف مختلف راستے اور کمرے تھے، لیکن وہ یہ نہیں جانتی تھی کہ اُن میں سے باہر کو نکلنے والا راستہ کون سا ہے۔

ابھی وہ سوچ ہی رہی تھی کہ اُسے اپنے پیچھے کسی کے غصے سے بھرے، بلند چیختے ہوئے لہجے کی آواز سنائی دی۔ کوئی شخص تیزی سے اوپر سے اُتر کر اسی سمت آرہا تھا۔ اس کا دل جیسے ایک لمحے کو حلق میں آ گیا۔

اُس نے فوراً سامنے نظریں دوڑائیں۔ ہال میں جگہ جگہ میزیں اور کرسیاں بےترتیبی سے بکھری پڑی تھیں۔

وہ فوراً تیز قدموں سے بھاگ کر ایک میز کی طرف لپکی، اور اس کے نیچے خود کو چھپا لیا۔

پھر اس نے گردن اٹھا کر دیکھا، وہ دو آدمی تھے۔ ایک وہ تھا جو اُسی سیڑھیوں سے اُس کے پیچھے آیا تھا، اور دوسرا شخص اُسی ہال کے بائیں طرف والی راہداری سے آیا تھا، شاید اُس نے اپنے ساتھی کی آواز سنی تھی اور فوراً مدد کے لیے دوڑا تھا۔

دونوں کی نظریں اِس وقت ہال کا جائزہ لے رہی تھیں، اور وہ آگے بڑھنے لگے تھے۔ اُس کے لیے وقت کم، اور فیصلہ بھاری تھا۔

اُس نے ایک لمحے کا توقف کیے بغیر اپنی پینٹ کی جیب سے پستول نکالی۔ چند ہی سیکنڈوں میں اُسے لوڈ کیا۔ اُس کے ہاتھ کانپ نہیں رہے تھے، مگر آنکھوں میں غیر معمولی ٹھہراؤ تھا۔

اگلے ہی لمحے، بغیر ہچکچاہٹ کے، اُس نے نشانہ لیا اور فائر کر دیا۔

وہ دونوں کو شوٹ کر چکی تھی۔

گولی چلتے ہی اس نے ایک لمحہ ضائع کیے بغیر تیزی سے خود کو سنبھالا اور جھٹ سے اٹھ کر اپنے بائیں طرف والے راستے کی جانب بڑھ گئی۔ سامنے ایک لمبی اور سنسان راہداری تھی، جو بظاہر آگے جا کر بند ہوتی دکھائی دیتی تھی۔

اُسے احساس ہو چکا تھا کہ وہ اس جگہ بری طرح پھنس چکی تھی۔

راہداری کے اختتام پر، دائیں جانب چند قدموں کے فاصلے پر ایک چھوٹا سا دروازہ تھا، جو بند تھا۔ وہ دروازہ کسی عام کمرے کا لگتا تھا، مگر اس وقت اُس کی سب سے بڑی امید بن چکا تھا۔

اُس کے پاس وقت بہت کم تھا۔ گولی کی آواز ضرور باقی افراد تک پہنچ چکی ہوگی، اور اب کوئی بھی ہال سے اُس طرف آسکتا تھا۔

اس نے جلدی مگر انتہائی احتیاط سے دروازے کے قریب پہنچ کر دھڑکتے دل کے ساتھ ہینڈل گھمایا۔ اور اگلے لمحے، دروازہ چرچراتے ہوئے کھل گیا۔

وہ ایک چھوٹا سا کمرہ تھا، جس میں مختلف جگہوں پر کھانے پینے کا سامان، بکھرے ہوئے کاغذات، ڈبّے اور کچھ اور پرانا سامان پڑا تھا۔

کمرے میں موجود دو نوجوان لڑکوں نے اُسے اندر آتے دیکھ لیا تھا۔ اُس کی موجودگی اُن کے لیے غیر متوقع تھی۔ اُن کی آنکھوں میں حیرت کا رنگ ابھرا، اور وہ فوراً اپنی جگہ سے اُٹھے، تیزی سے اُس کی طرف بڑھے۔ شاید روکنے یا حملہ کرنے کے لیے۔

مگر اُس نے بجلی کی سی تیزی سے پستول کا رُخ اُن کی طرف موڑ دیا۔ لمحہ بھر میں فضا میں جمود طاری ہو گیا۔

دونوں لڑکے وہیں رک گئے۔ اُن کے قدم ساکت ہو گئے اور نگاہیں محتاط انداز میں اُسے تکنے لگیں۔ جیسے تول رہے ہوں کہ یہ لڑکی صرف غصے میں ہے یا کسی انتہا پر۔

ساتھ ہی وہ دونوں کچھ پوچھنے لگے۔ مگر اُن کی زبان اس کے لیے اجنبی تھی۔ الفاظ اُس کے کانوں میں پڑ ضرور رہے تھے، مگر معنی گم تھے۔ وہ نہ سمجھ سکی کہ وہ کیا کہہ رہے تھے، اس لیے خاموش رہی۔ مگر اُس نے پستول کا رُخ اُن کی جانب تانے رکھا۔

کمرے میں ایک کھڑکی موجود تھی، جس کی طرف وہ آہستہ آہستہ قدم بڑھانے لگی۔

کھڑکی باہر کی سمت کھلتی تھی، اور اس وقت ذرا سی کھلی ہوئی تھی۔

بس ایک تھوڑی سی کوشش، اور وہ باہر نکل کر بھاگ سکتی تھی۔

مگر مسئلہ یہ تھا کہ یہ دونوں اُس کی راہ کی دیوار بنے ہوئے تھے۔ وہ جانتی تھی، اگر اُس نے ان کا سامنا کیے بغیر بھاگنے کی کوشش کی، تو وہ کبھی اُسے فرار نہ ہونے دیتے۔

وقت بہت کم تھا۔ ہر لمحہ اُس کی پشت پر کوئی نیا خطرہ لانے والا ہو سکتا تھا۔ اور سامنے دو دشمن اُس کی آزادی کے خلاف کھڑے تھے۔

اُس نے بغیر مزید سوچے ٹریگر دبایا۔ ایک، دو، تین، چار…

گولیاں سیدھی دونوں لڑکوں کے گھٹنوں پر جا لگیں۔ ایک لمحے میں فضا چیخوں سے گونج اُٹھی۔ وہ دونوں درد سے بلبلاتے ہوئے زمین پر گر پڑے۔

مگر اُس کے پاس اُن کی چیخیں سننے کا وقت نہیں تھا۔

اُس نے فوراً کھڑکی کی طرف رُخ کیا، اور پھرتی سے اُس میں سے باہر پھلانگ گئی۔ جیسے ہی اُس کا وجود کھڑکی سے باہر پہنچا، اُس نے پیچھے مڑ کر جلدی سے کھڑکی بند کر دی۔

سامنے ایک کشادہ میدان تھا، اور اُس کے اُس پار ایک گھنا سا جنگل دکھائی دے رہا تھا۔ رات کا اندھیرا ہر سمت پھیلا ہوا تھا۔

مگر اُس نے ایک لمحہ ضائع کیے بغیر دوڑ لگانا شروع کر دی۔ اُس کے قدم زمین پر پڑتے جا رہے تھے، اور ہر قدم اُسے قید سے کچھ اور دور، اور آزادی کے کچھ اور قریب لے جا رہا تھا۔

درختوں کے جھنڈ کے قریب پہنچتے ہی، اُس کے کانوں میں گولیوں کی گرجتی ہوئی آوازیں پڑیں۔ اُس کے قدم ایک لمحے کو لڑکھڑائے، مگر اُس نے فوراً خود کو سنبھالا۔

یقیناً اُس کے فرار کا پتہ وہاں موجود باقی لوگوں کو بھی ہوچکا تھا۔ وہ جان چکے تھے کہ وہ بچ نکلی ہے اور اب وہ اُسے دوبارہ قابو میں لانے کی کوشش کریں گے۔

مگر ابھی وہ اُس کی سمت سے ناواقف تھے۔

اُس نے ایک لمحے کے لیے گردن موڑ کر پیچھے دیکھا، پھر فوراً دوبارہ آگے نظریں جما دیں اور درختوں کے اس گھنے جھنڈ میں اندھا دھند بھاگنا شروع کر دیا۔

پتوں کی سرسراہٹ، شاخوں کا ہلنا، اور زمین پر گرتے قدموں کی چاپ… وہ ہر طرف سے چھپنے اور بچنے کی کوشش کر رہی تھی۔

اندھیری رات میں، وہ اب بس ایک سائے کی طرح جنگل میں جذب ہو چکی تھی۔ آزاد، مگر خطرے کے بالکل سائے میں۔

پودوں، پتوں، جھاڑیوں اور چھوٹے چھوٹے پتھروں پر سے گزرتے ہوئے وہ زخمی ہو رہی تھی مگر تھکی ہوئی سانسوں کے ساتھ مسلسل بھاگ رہی تھی۔

اُس کی سانس پھول چکی تھی، مگر قدم اب بھی نہیں رُک رہے تھے۔ کیوں کہ رکنا اب اس کے لیے خطرے کو گلے لگانے کے مترادف تھا۔

اگر ان میں سے کسی نے بھی اب اُسے دیکھ لیا، تو وہ بغیر لمحہ ضائع کیے گولی چلا دے گا۔ کوئی رحم نہ ہوتا، کوئی سوال نہ کیا جاتا۔

وہ اُن میں سے تین افراد کو موت کے گھاٹ اتار چکی تھی۔ تین کو بے ہوش اور دو کو شوٹ کرکے آچکی تھی۔ وہ اُن کے لیے اب صرف ایک مجرم نہیں، بلکہ انتقام کا نشان بن چکی تھی۔

اور وہ جانتی تھی…

یہ جنگ اب صرف فرار کی نہیں،

بلکہ زندہ رہنے کی تھی۔

••••••••••

اگلی قسط اپلوڈ کردی