Story
"زینب کا خواب"
زینب 2000 میں پیدا ہوئی تھی۔ ایک چھوٹے سے گھر میں، جہاں چھت سے پانی ٹپکتا تھا اور دیواروں پر پرانے اخبار چپکے ہوئے تھے۔ اس کے بابا رکشہ چلاتے تھے۔ دن بھر کی کمائی سے مشکل سے دو وقت کی روٹی آتی تھی۔
چھوٹی سی زینب کو جب پہلی بار ہسپتال لے جایا گیا بخار کی وجہ سے، تو اس نے سفید کوٹ والے ڈاکٹر کو دیکھا۔ ڈاکٹر نے زینب کے ماتھے پر ہاتھ رکھا اور مسکرا کر کہا "بیٹا گھبراؤ نہیں"۔ بس اسی لمحے زینب کے دل میں ایک بڑا خواب آ گیا۔ وہ بولی "امی، میں بڑی ہو کر ڈاکٹر بنوں گی"۔ امی ہنس دیں۔ بابا نے اس کا ہاتھ پکڑ کر کہا "بیٹا، خواب بڑے رکھو"۔
اسکول میں زینب تھوڑی نالائق تھی۔ کتابیں سمجھ نہیں آتیں تھیں۔ ٹیچر ڈانٹتیں "زینب تم سے نہیں ہوگا"۔ محلے کی آنٹیاں کہتیں "غریب کا بچہ ہے، ڈاکٹر بنے گا؟ رکشے والے کی بیٹی"۔ لڑکے مذاق اڑاتے "ڈاکٹرنی صاحبہ آ گئیں"۔
زینب رات کو رو لیتی، لیکن اگلے دن پھر کتاب کھول کر بیٹھ جاتی۔ بابا رات کو دیر سے آتے، تھکے ہوئے۔ پھر بھی زینب کے پاس بیٹھ کر پوچھتے "کتنا پڑھا؟" زینب کہتی "بابا مشکل ہے"۔ بابا اس کے سر پر ہاتھ رکھ کر کہتے "بیٹا، مشکل کا مطلب یہ نہیں کہ ناممکن ہے۔ لوگوں کی باتیں سن کر خواب مت چھوڑنا۔ "اپنے دل کی سنو".
9ویں کلاس میں زینب فیل ہو گئی۔ اسکول میں سب نے کہا "اب چھوڑ دو، کوئی سلائی کڑھائی سیکھ لو"۔ زینب نے ایک رات چھت پر جا کر بہت رویا۔ پھر خود سے وعدہ کیا "میں ہار نہیں مانوں گی"۔
اس نے ٹیوشن چھوڑ دی کیونکہ فیس نہیں تھی۔ یوٹیوب پر لیکچر دیکھتی، لائبریری سے پرانی کتابیں لاتی۔ صبح 4 بجے اٹھ کر پڑھتی۔ بابا اس کے لیے چائے بنا کر لاتے اور چپکے سے اس کے نوٹ چیک کرتے۔ ایک بار زینب نے پوچھا "بابا آپ کو شرم نہیں آتی لوگ کیا کہیں گے؟" بابا بولے "مجھے فخر ہے اپنی بیٹی پر، دنیا ہنسے تو ہنسے، تو نام روشن کر دے"۔
12ویں میں زینب نے محنت کی اور اچھے نمبروں سے پاس ہوئی۔ پھر انٹری ٹیسٹ آیا۔ پہلی بار میں سلیکٹ نہیں ہوئی۔ گھر میں مایوسی تھی۔ امی نے کہا "بس کرو بیٹا"۔ لیکن زینب نے کہا "نہیں، ایک سال اور دوں گی"۔
اس ایک سال میں زینب نے رکشے پر بیٹھ کر بھی کتابیں پڑھیں۔ بابا جب سواری کا انتظار کرتے تو زینب سائیڈ پر بیٹھ کر فارمولے یاد کرتی۔ لوگ آوازیں کستے، لیکن بابا کا سر فخر سے اونچا رہتا۔
دوسرے سال زینب کا نام میرٹ لسٹ میں آیا۔ سرکاری میڈیکل کالج۔ فیس کی ٹینشن تھی تو کالج نے غریب اسٹوڈنٹس کے لیے وظیفہ دے دیا۔
6 سال کی پڑھائی۔ راتوں کی جاگ۔ آنسو۔ ہار ماننے کا دل۔ لیکن ہر بار بابا کی وہ بات یاد آ جاتی "اپنی سنو، لوگوں کی نہیں"۔
آخر وہ دن آیا۔ زینب ڈاکٹر بن گئی۔ وائٹ کوٹ پہن کر جب وہ پہلی بار اسی ہسپتال گئی جہاں بچپن میں گئی تھی، تو اس کی آنکھیں بھر آئیں۔
گھر آ کر اس نے سب سے پہلے بابا کے پاؤں چھوئے۔ بابا رو پڑے۔ اتنے سال رکشہ چلانے والے ہاتھ کانپ رہے تھے۔ زینب نے کہا "بابا، یہ کوٹ آپ کا ہے۔ آپ نے کہا تھا خواب مت چھوڑنا"۔
آج زینب شہر کے بڑے ہسپتال میں ڈاکٹر ہے۔ غریب مریضوں کا مفت علاج کرتی ہے۔ اس کے کلینک کے باہر بورڈ لگا ہے "ڈاکٹر زینب"۔
محلے کی وہی آنٹیاں اب کہتی ہیں "یہ رکشے والے کی بیٹی ہے، دیکھو کہاں پہنچ گئی"۔
زینب مسکرا کر جواب دیتی ہے "ہاں، میں رکشے والے کی بیٹی ہوں۔ اور مجھے فخر ہے"۔
اس نے صرف اپنا نام روشن نہیں کیا، اس نے ثابت کر دیا کہ خواب بڑے ہوں، نیت سچی ہو، اور بابا کا ہاتھ سر پر ہو... تو نالائق بھی کامیاب ہو جاتی ہے۔
Author:
"حالات چاہے جتنے بھی مشکل ہوں، اگر خواب بڑا ہو اور نیت صاف ہو، تو ایک دن محنت ضرور رنگ لاتی ہے۔ لوگوں کی باتیں مت سنو، اپنے بابا کے دیے ہوئے بھروسے کو مت توڑو۔ گر کر اٹھنا سیکھ لو، کیونکہ کامیابی انہی کا مقدر بنتی ہے جو ہار نہیں مانتے۔"








