first meetup
کچھ غم ایسے ہوا کرتے ہیں کہ ان کو بھول پانا کچھ آسان نہیں ہوتا۔ اس کی وجہ ان غموں سے جڑی وہ بے درد یادیں اور ان یادوں سے وابستہ وہ لوگ ہوا کرتے ہیں جو کبھی جینے کی آس اور امید ہوا کرتے ہیں۔ پھر ان کا بدل جانا بے حد درد دیتا ہے۔ ان کی طرف سے ملنے والے دکھ برداشت سے باہر ہوا کرتے ہیں ۔
میری کہانی بھی کچھ ایسی ہی ہے۔ مجھے جس چیز نے تباہ کیا وہ کوئی اپنا ہی تھا، کوئی بہت قریبی، کوئی جان سے پیارا۔ میرا عزیز،وہ کہ جو میری پوری دنیا تھا۔ وہ جو میرے دل کے سب سے زیادہ قریب تھا۔ وہ جس کے بغیر جینے کا تصور نہ کیا تھا میں نے۔
میری داستان میں سب سے واضح کردار اسی کا تھا۔ وہ میرا محسن تھا، وہ میرا محبوب تھا۔ سچ کہوں تو مجھے اس سے عشق تھا اور عشق بھی لازوال تھا۔ مگر میرا یہ عشق میری بربادی کا سبب بنا اور مجھے زندگی سے بے دخل کر گیا۔
میری اس محبوب سے آخری ملاقات کچھ یوں تھی کہ میں سفید چادر میں لیپٹا تھا اور وہ کالے لباس میں ملبوس تھا۔ میرے وجود میں اب جان باقی نہ تھی۔ میں مر چکا تھا اور وہ میرے پاس کھڑا میرے اس نقصان پر افسوس جتا رہا تھا۔ وہ رو رہا تھا۔ اس کی آنکھوں میں آنسو تھے نہ جانے کسں بات پہ، میری موت کا غم تھا اسے یا کچھ اور۔ یہ تو خدا ہی جانتا ہے اور وہی جان سکتا ہے۔
جلد ہی مجھے دفنانے کی فکر لاحق ہونے لگی۔ اور اس فکر کے چلتے مجھے دفنا دیا گیا۔ کچھ لمحوں بعد میری قبر ویران ہوگئی۔ وہاں کوئی نہ روکا، کوئی بھی نہیں، وہ بھی نہیں۔ بلکہ یوں کہوں کہ وہ تو سب سے پہلے چلا گیا۔ وہ نہ روکا میرے پاس۔ وہ باآسانی بھول گیا مجھے۔ مگر میں اس کے غم میں اس حالت کو آ پہنچا۔
یہ وہی تھا جو ہلکی سی کھروچ پر تڑپ اٹھتا تھا۔ ہاں یہ وہی تھا جو میرے غم میں ساجھی تھا۔ وہ جو زخم کھانے پہ سب سے پہلے آتا اور پھر زخم بھرنے تک نہ جاتا۔ وہ پاس ہی رہتا تھا۔ وہ درد بانٹ لیتا تھا۔ مگر آج وہ درد کی وجہ تھا بلکہ ہوں کہنا ٹھیک ہوگا کہ وہی درد تھا۔ وہ وجہ تھا میرے درد کی، میری اس حالت کی۔ اگرچہ وہ میری تباہی کا سبب تھا مگر پھر بھی مجھے اس سے لازوال عشق تھا اور صدا رہنا تھا۔
اور اب میری قبر ایک اجاڑ بستی کی مانند تھی جس پر جڑی بوٹیاں کا راج تھا۔ میری قبر سنسان تھی جس پر کسی نے فاتحہ تک نہ پڑھی تھی۔ اس قدر لعنت زدہ زندگی تھی میری کہ میرا کوئی اپنا نہ تھا جو مجھے ملنے آتا، جو مجھے یاد کرتا، جسے میری یاد ستاتی۔
میں واقف ہوں اس بات سے کہ یہ بات تجسس میں ڈالتی ہے کہ کہاں تھا میرا خاندان، کون تھا وہ محبوب اور کیوں میں اس حالت کو آپہنچا۔
اس سب کا آغاز اس پہلی ملاقات سے ہوا۔ اور وہ ملاقات اب بس پچھتاواہ بن کر رہ گئی ہے۔
پہلی ملاقات
میری اس شخص سے پہلی ملاقات آج سے تقریبًا سات سال پہلے ہوئی۔ اس وقت میں نے جوانی کی دہلیز پر اپنے قدم جمائے تھے۔ اور مسیں بھیگنے کا مطلب صاف ہوتا ہے غرور کے نشے میں چور ہونا۔ اور میں تھا۔ ہاں میں اس وقت غرور کے نشے میں چور تھا۔ میں مغرور شہزادہ تھا جسے دنیا سے لگاؤ کچھ کم یا پھر ہوں کہے کہ دنیا سے لگاؤ تھا ہی نہیں۔ میں اکتایا ہوا تھا اس دنیا سی، دنیا والوں سے۔ میرے نزدیک اس دنیا کی حیثیت سوائے کھیل تماشے کے اور کچھ نہ تھی۔
وہ بارشوں کے دن اور جولائی کا مہینہ تھا۔ میں گھر سے باہر نکلا۔ مجھے اپنے گھر میں سکون لا حاصل تھا۔ میں زیادہ تر بےچین رہتا تھا اس محل نما گھر میں۔ وہ گھر سکون کم وحشت زیادہ دیا کرتا تھا۔ اس کی وجہ میں آگے بیاں کروں گا۔
میں گھر سے نکلا۔ بارش ہونے کے امکان بہت زیادہ تھے مگر میں نے پرواہ نہ کی۔ مجھے بس وہاں سے نکلنا تھا نتیجہ چاہے جو بھی ہو۔
میں اپنا زیادہ تر وقت لائبریری میں گزارا کرتا تھا۔ اگرچہ میں کچھ پڑھتا تو نہیں تھا وہاں پر مگر وہاں مجھے سکون ملتا تھا جو اور کہیں میسر نہ تھا مجھے۔
ابھی آدھ راستہ بھی پار نہ ہوا تھا کہ آسمان پھٹ پڑا اور موسلادھار بارش شروع ہو گئی۔ مجھے یہ بارش کسی صورت قبول نہ تھی مگر یہ قدرت کا فیصلہ تھا اور اس پر میرا بس نہیں چل سکتا تھا۔
میں نے بارش سے بچنے کے لیے بس سٹاپ کی چھت کا سہارا لیا اور بے صبری سے بارش روکنے کا انتظار کرنے لگا۔ مجھ میں صبر کی کمی تھی۔ مگر میں برداشت بہت اچھا کیا کرتا تھا۔
میں بے صبری میں ادھر اُدھر چہل قدمی کرنے لگا۔ میں عجیب کشمکش میں تھا اور تناؤ کا شکارتھا۔ اسی لمحے قسمت نے پلٹا کھایا اور وہ منظر عام پر سامنے آیا۔
وہ شخص بارش کے پانی سے مکمل طور پر شرابور تھا۔ وہ اونچا لمبا، رات کی طرح گہرے کالے بال رکھنے والا، دبلا پتلا،نیلی آنکھوں اور دودھ جیسی سفید رنگت کا مالک تھا۔ وہ اس دن بھی کالے لباس میں موجود تھا۔ واقعی کالا لباس اس پر بہت جچتا تھا۔
اس کے چہرے پر ایک دلکش مسکراہٹ تھی۔ وہ بڑی نزاکت کے ساتھ ہاتھ بالوں میں پھیر کر انھیں خشک کرنے کی کوشش کر رہا تھا۔ اس کا یہ انداز لوگو کو اس کی طرف متوجہ ہونے پر قائل کرتا تھا۔
وہ مسلسل مسکرا رہا تھا اور اس کی یہ ادا مجھے قائل کر رہی تھی۔میں دیوانہ وار اسے تکے جا رہا تھا۔ وہ میری آنکھوں کو بے حد بھلا معلوم ہوا۔
پھر آخرکار میں نے اسے اپنی نظروں کی گرفت سے آزاد کیا اور دوبارہ بے چینی میں گھومنے لگا۔ اسے تکتے وقت میری بے چینی کہیں دور غائب ہو گئی تھی۔ کچھ پل کے لیے میری وہ اکتاہٹ دور ہوئی تھی۔ مگر اب پھر سے میں اسی تناؤ کا شکار تھا۔
میں مسلسل چہل قدمی کر رہا تھا کہ اس نے میرا بازو پکڑ کر مجھے روکا۔ اور میں روکا بھی۔ میں حیران تھا اس وقت خود پر میں نے اسے کچھ نہ کہا بلکہ میں نے اس کی تابع فرمانی کی تھی۔ میں شہیر ملک تھا اپنی دنیا میں مست رہنے والا جسے بشر بیزاری کی بیماری تھی۔ وہ شخص کسی اجنبی کے روکنے پہ روکا تھا۔
"رک جاؤ۔ یوں خود کو تھکا لو گے۔"
وہ بڑے پیار سے گویا ہوا۔ مجھے اس کا یہ انداز جھوٹا تاثر لگا تھا۔ بھلا کوئی اجنبیوں سے بھی اس قدر مٹھاس سے بات کرتا ہے۔ مجھے وہ فرضی لگا، مصنوئی لگا۔ مجھے وہ سچا کہیں سے نہ لگا۔
اس میں نہ اس کا قصور تھا اور نہ میرا۔ اس کی بڑی وجہ یہ تھی کہ مجھے تو اپنوں سے آج تک اس قدر مٹھاس نہ ملی میں غیروں سے کہا توقع رکھتا۔ مگر اس کا معاملا کچھ اور ہی تھا۔ اس کے نزدیک ہر ایک سے یونہی بات کرنا مناسب تھا اور یہ انداز اس کے لیے ضروری تھا۔
میں اس کی جس بات کا قائل تھا وہ اس کا میرے ساتھ ہسنا کھیلنا تھا۔
میں بغیر کچھ کہے بس اسے دیکھ رہا تھا۔ اس کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر اور میری یہ ادا اکثر اسے خوف میں مبتلا کر دیا کرتی تھی۔
"میرا بازو چھوڑو۔"
میرا لہجہ کڑوا اور سخت تھا۔ میرے لہجے سے صاف واضح تھا کہ مجھے یوں بازو پکڑنا پسند نہیں آیا حالانکہ ایسا کچھ نہ تھا۔ اس وقت مجھے کچھ محسوس نہ ہوا۔ نہ سکون نہ اکتاہٹ، نہ نفرت اور نہ ہی ہیار۔ بس ایک خالی پن جو آگے سے کچھ الگ تھا۔ مگر میں عادت سے مجبور تھا مجھے یونہی بات کرنے کی عادت تھی۔
اس نے فورًا میرا بازو چھوڑا اور معزرت کی۔
"معاف کیجیے گا۔ میرا ہرگز مطلب آپ کو چڑانا نہ تھا۔"
وہ پشیمان ہو کر بولا۔ اس کا لہجہ صاف واضح کر رہا تھا کہ وہ خجل کی کیفیت میں مبتلا ہے۔
"It's okay".
میرے لہجے میں کچھ بدلاؤ نہ آیا وہ ویسا ہی سخت تھا۔ مجھے یونہی گفتگو کرنے کی عادت تھی اور عادت اتنی آسان نہیں ہوتی چھوڑنی۔ اس لیے مجھے بھی اسے چھوڑتے اورعاجز ہوتے وقت لگنا تھا۔
"I'm so sorry. I'm really sorry. Please forgive me."
وہ تو جھکنے پر آگیا تھا۔ اس وقت جو الفاظ اس کے لیے نکلے وہ کچھ ٹھیک نہیں تھے مگر یہ اس کی اس قدر پشیمانی کی وجہ سے ہی تھا اور مجھے ان سب کی عادت نہیں تھی۔ میں نے دل ہی دل میں اسے اچھے ڈرامے باز ہونے کے لقب سے نوازا تھا۔
"میں نے کہا نہ کوئی بات نہیں۔ تمھیں سمجھ نہیں آتی۔"
میں اب کی بار تناؤ کا شکار ہوا تھا اور میری زبان بلکل بھی میرے قابو میں نہ تھی اور نہ ہی میں نے کبھی اسے قابو میں کرنے کی کوشش کی تھی۔ میں نے اسے مکمل آزادی دے رکھی تھی۔








