Wabaa - An Apocalyptic Tale

All Rights Reserved ©

Summary

نگین بابر — ایک سابق زومبی جو اب دوبارہ انسان بن چکی ہے — اپنی ادھوری یادداشت کے ساتھ اس تباہ حال دنیا کا سامنا کر رہی ہے، اپنے معالج ڈاکٹر زریاب کے ہمراہ۔ وہ اُن نو مخصوص افراد میں سے ایک ہے جو *Vivre Max* نامی مہلک وائرس کا تریاق تیار کرنے کی کلید سمجھے جاتے ہیں — وہ خطرناک نشہ جو انسانوں کو زومبی میں تبدیل کر چکا ہے۔ اب نگین کو ہر صورت زندہ رہنا ہے، اپنی غیر معمولی صلاحیتوں کا سہارا لے کر، تاکہ ڈاکٹر زریاب اُسے محفوظ طریقے سے تجربہ گاہ تک پہنچا سکے… جہاں اس وبا کا مستقل علاج ممکن بنایا جا سکے۔

Genre
Scifi
Author
Maya Ali
Status
Ongoing
Chapters
2
Rating
n/a
Age Rating
18+

Second Lockdown

یاد ہے جب اُنہوں نے کہا تھا کہ “لاک ڈاؤن ختم ہوتے ہی سب ٹھیک ہو جائے گا“؟

غلط کہا تھا۔

اور واضح کر دوں، میں اُس لاک ڈاؤن کی بات نہیں کر رہی جو 2019 میں آیا تھا۔

مجھے آج بھی وہ دن یاد ہے—جب میرا چھوٹا بھائی عبداللہ، میری امّی، ابو اور میں... سب مل کر عید کی خریداری میں مصروف تھے۔

ہر طرف خوشیوں کی چمک تھی، بازار جگمگا رہے تھے، لوگوں کے چہروں پر عید کا اُجالا تھا۔

میں نے ایک سیاہ رنگ کا سوٹ ہاتھ میں لیا، جس پر ستاروں کی طرح جھلملاتے کام کی کڑھائی تھی۔

“آپّی، آپ ہر تہوار پر کالا سوٹ ہی کیوں سلواتی ہیں؟” عبداللہ کی معصوم آواز گونجی۔

اسی لمحے امّی نے ہنستے ہوئے چٹکی لی، “بیٹا، تمہاری آپّی دیکھنے میں تو سترہ کی لگتی ہے، مگر اصل میں اِس میں 1952 کی کسی بڑھیا کی رُوح قید ہے!”

“امّی!” میں نے شرماتے ہوئے ہاتھ جوڑ کر اُنہیں دیکھا۔

“ہاں بھئی! اللہ نے ایک ہی بیٹی دی ہے، اور میری تو یہ حسرت ہی رہ جائے گی کہ کبھی اِسے چوڑیاں پہنے، لال جوڑے میں سجے سنورے دیکھوں۔ لیکن نہیں!

شاید یہ خواہش دل میں لیے ہی اس دنیا سے رخصت ہو جاؤں گی!” اُنہوں نے چہرہ موڑتے ہوئے کہا۔

نہ جانے کیوں، اُن کے یہ الفاظ سن کر میرے دل کی دھڑکنیں اچانک تیز ہو گئیں۔

میں دوڑتی ہوئی امّی کے گلے لگ گئی، آنکھوں میں نمی، آواز میں لرزش — “امّی! خدارا ایسی باتیں نہ کریں... میں ابھی اندر سے کوئی خوبصورت سا زنانہ رنگ لے آتی ہوں!” میں نے ضدی بچوں کی طرح منہ پھُلا کر کہا۔

“میری بچی!” امّی نے محبت سے میرے گال پر پیار کیا۔ میں نے فوراً عبداللہ کا ہاتھ تھاما اور خواتین کے سوٹوں کی دکان کی طرف بڑھ گئی۔

“ہمیشہ میری ہی شامت کیوں آتی ہے؟” عبداللہ نے اپنا ہاتھ چھڑانے کی کوشش کی، مگر میں نے اور بھی مضبوطی سے اسے پکڑ لیا۔

“بیٹا، یہ سب تمہارا ہی کیا دھرا ہے... تم نے ہی امّی کو جذباتی بلیک میلنگ کا راستہ دکھایا، اب خمیازہ بھگتو!” میں نے شرارتی انداز میں کہا، اور ہم ہنستے ہوئے مارکیٹ کی طرف چل دیے۔

عبداللہ مجھ سے صرف تین برس چھوٹا تھا۔ ہم وہ بہن بھائی تھے جو اکیلے میں ہوں تو ایک دوسرے کا قیمہ نکال دیں، اور اگر کوئی تیسرا کچھ کہہ دے تو مل کر اُسے دنیا سے نکال دیں۔

میں ایک چوڑیوں کی دکان پر جا پہنچی... اور شاید یہ میری زندگی کی بڑی غلطیوں میں سے ایک تھی۔

وہ چمکتی دمکتی، جگمگاتی ہوئی چمچماتی گلیٹر والی چوڑیاں… جنہیں دیکھ کر لڑکیوں کی آنکھیں کھل رہی تھیں، میرا دل کچھ اور ہی محسوس کر رہا تھا— ایک عجیب بےچینی، ایک انجان سی الجھن۔

“بھائی صاحب، اگر کچھ کم چمکدار چوڑیاں ہوں، تو وہ دکھائیں، بس اس سوٹ کے ساتھ میل کھاتی ہوں!” میں نے لال رنگ کا سوٹ دکھاتے ہوئے کہا۔

دکاندار نے سادہ سرخ کانچ کی چوڑیاں نکال کر دیں، اور پھر اُس نے اپنی بےحیائی سے لبریز نظروں سے مجھے دیکھا۔ ہونٹوں کے کونے میں دبی ہوئی تیلی کو ایک طرف دباتے ہوئے، ایک گھٹیا سی مسکراہٹ چھپانے کی ناکام کوشش کے ساتھ بولا: “لائیے! میں پہنا دوں؟”

میں نے بھی خونخوار نظروں سے گھورتے ہوئے ناک سکوڑ کر جواب دیا: “جی نہیں، مجھے خود پہننا آتا ہے!”

میں نے جھپٹ کر چوڑیاں اُس کے ہاتھ سے لیں اور فوراً دکان سے باہر نکل آئی۔

مگر نہ جانے کیوں، دل زور زور سے دھڑکنے لگا۔ کچھ عجیب سا ہونے کا احساس... شاید یہ لال رنگ ہی مجھے راس نہ آیا ہو، یا شاید کچھ اور تھا۔

اچانک، میرا پاؤں زمین کے ایک اُکھڑے ہوئے حصے میں اُلجھا، اور میں گِر گئی۔ میرا گھٹنا زمین سے جا لگا، درد کی ایک لہر پورے جسم میں دوڑ گئی۔

“آپّی!” عبداللہ گھبرا کر میری طرف لپکا۔

میری یہ حالت دیکھ کر امّی بھی فوراً میری طرف متوجہ ہوئیں۔ اور عین اُسی لمحے، سڑک کے دونوں جانب سے تیز رفتار گاڑیاں آئیں... اور میری آنکھوں کے سامنے وہ آپس میں ٹکرا گئیں۔

ایک دھماکے کی زور دار آواز گونجی۔

وہ دونوں گاڑیاں مال بردار ٹرک تھے— اور اگلے ہی لمحے اُنہوں نے آگ پکڑ لی۔

امّی بیچ سڑک میں تھیں… بالکل اُن دونوں ٹرکوں کے درمیان۔

میرے کانوں میں سیٹیوں جیسی آوازیں گونجنے لگیں، میرا دل جیسے ڈوبنے لگا۔

میں اُٹھنا چاہتی تھی، دوڑ کر امّی کی طرف جانا چاہتی تھی، مگر…

اچانک ایک اور دھماکہ ہوا، اور جو کچھ بچا کھچا تھا، وہ بھی پرخچوں کی صورت فضا میں اُڑ گیا۔

میں نے فوراً عبداللہ کو اپنی آغوش میں چھپا لیا۔ اُس کا نرم و نازک وجود میرے بازوؤں میں کانپ رہا تھا، اور میری آنکھیں — جو صدمے سے کھل نہیں پا رہی تھیں — اب آنسوؤں کا ایسا طوفان برساتی جا رہی تھیں جو رکنے کا نام ہی نہیں لے رہا تھا۔

بابا دوڑتے ہوئے آئے اور ہمیں زور سے گلے لگا لیا۔ آج ہی ہم عید کی تیاریوں میں مصروف تھے، لیکن کوئی سوچ بھی نہیں سکتا تھا کہ عید آنے سے پہلے ہی ہماری دنیا ہی اجڑ جائے گی۔

لیکن یہ تو صرف ابتداء تھی۔

ابھی لوگ ہمارے گرد اکٹھا ہونا ہی شروع ہوئے تھے کہ اچانک ایک ہولناک منظر ہماری آنکھوں کے سامنے آیا۔

بےشمار لوگ کھانسنے لگے—ایسی کھانسی کہ جیسے اندر سے کچھ ٹوٹ کر باہر آ رہا ہو۔ اور پھر وہی ہوا جس کا کوئی اندازہ نہیں تھا—وہ لوگ خون تھوکنے لگے، اور دیکھتے ہی دیکھتے، وہ ایک ایک کر کے زمین پر گرنے لگے۔ اُن کی آنکھوں، منہ، ناک، اور کانوں سے خون بہنے لگا، جیسے جسم کے سارے راستے موت کا اعلان کر رہے ہوں۔ جب تک وہ زمین پر گرتے، ان کے جسم میں کوئی رمق باقی نہ رہتی۔

جو چند لوگ باقی بچے، انہوں نے ایک دوسرے کو سہارا دیا اور قریب ہی مارکیٹ کے اندر پناہ لینے لگے۔

ادھر بڑوں نے جلدی سے ایمبولینسز بلائیں، اور باقی دکانداروں نے فوراً اپنی دکانوں کے شٹرز گرا دیے۔

یہ سب کیا ہو رہا تھا؟

تھوڑی ہی دیر میں ایک بڑی لیب وین آئی، جس میں سے کچھ مسلح اور حفاظتی لباس میں ملبوس محقق باہر نکلے۔ انہوں نے فوراً علاقے کا جائزہ لیا، اور جو اطلاع ملی وہ مزید ہولناک تھی—پتا چلا کہ جو دو ٹرک آپس میں ٹکرائے تھے، ان میں کچھ خطرناک کیمیکلز لوڈ تھے، اور ان کے دھماکے سے ایک قسم کا “منی-نیوکلئیر ری ایکشن” ہوا ہے۔

سائنس کی باریکیوں کا مجھے علم نہیں، لیکن جتنا میں سمجھ پائی، اتنا کافی تھا کہ یہ سب ایک کیمیائی تباہی تھی۔

جلد ہی چھوٹے قرنطینہ کیمپ قائم کیے گئے—مردوں کے لیے الگ، عورتوں کے لیے الگ، اور بچوں کے لیے الگ۔

سب کو چیک کر کے ویکسین دی گئی۔ لیکن جب میری باری آئی، تو میرے ایک سوال نے نرس کو خاموش کر دیا۔ وہ ایسے لباس میں تھی جیسے خلا میں جانے والے پہنتے ہیں، منہ پر ماسک، آنکھوں میں احتیاط کی چمک۔

اس نے میرا بازو تھاما ہی تھا کہ میں نے فوراً جھٹک کر ہاتھ چھڑایا۔ “یہ کس چیز کی ویکسین ہے؟” میں نے احتجاجی لہجے میں پوچھا۔

“یہ آپ کو ریڈیئیشن کے اثرات سے محفوظ رکھے گی،” اُس نے دھیمے انداز میں جواب دیا۔ اُس کی آنکھیں چھوٹی مگر نہایت دلکش تھیں—لمبی پلکیں، نازک سا چہرہ، نرم لہجہ، اتنا کہ کوئی اور ہوتا تو فوراً قائل ہو جاتا۔

لیکن میں اُن چیزوں پر زیادہ دھیان دیتی ہوں، جو مجھے پراسرار لگتی ہیں۔

میں نے دوبارہ ہاتھ پیچھے کیا اور اس کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر کہا، “جو حادثہ آج ہوا ہے، اُس کی ویکسین آپ کے پاس پہلے سے کیسے موجود ہے؟

I’m sorry madam, but I cannot allow you to inject me with this vaccine!” میرا لہجہ بدتمیز نہیں تھا، لیکن میری بات میں ضد تھی، عزم تھا۔

اُس کی آنکھیں حیرت سے پھیل گئیں، جیسے میں نے اُسے رنگے ہاتھوں پکڑ لیا ہو۔ اُس نے مجھ سے بحث نہیں کی، بلکہ حیرت انگیز طور پر چپ چاپ پلٹی اور کیمپ کے گیٹ کی طرف چلی گئی۔

کچھ لمحوں بعد وہ ایک نقاب پوش مرد کے ساتھ واپس آئی، میری طرف اشارہ کیا اور آہستہ آہستہ اُس سے کچھ بات کرنے لگی۔ وہ آدمی مجھے ایسے گھور رہا تھا، جیسے میں کوئی آٹھواں عجوبہ ہوں۔

پھر وہ دونوں وہاں سے چلے گئے۔

بابا اور عبداللہ کو پہلے ہی ویکسین لگا دی گئی تھی، اور چند لمحے بعد، ہمیں تینوں کو کیمپ سے جانے کی اجازت دے دی گئی۔