ایک راز
“There is no end to the things you don’t understand. The mind will search for a lie to give it an answer you can understand, but one song at the right time will challenge what you accept.”
-------Shannon L. Alde---------
مسٹر وقاص اس بارے میں کچھ بھی نہیں جانتے- اگر وہ جانتے ہوتے تو سلینہ کے ہاتھ کچھ تو لگتا کم سے کم- لیکن اس کا کہنا ہے کہ مینیجرصاحب بے گناہ ہیں - اور مجھے بھی یہی لگتا ہے کہ ہم اندھے کنویں میں چھلانگ لگا رہے ہیں اور اس سب سے کچھ فائدہ حاصل نہیں ہوگا۔" زیان نے ٹھنڈی آہ بھری
تم اتنے یقین سے یہ کیسے کہہ سکتے ہو کہ وقاص قصور وار نہیں ہے؟” سامنے موجود کرسی پر بیٹھے شخص نے بے یقینی سے کہا ۔
تم جانتے نہیں ہو سلینہ کو وہ ہپنوٹزم جانتی ہے کسی کو بھی اپنے قابو میں کر کے اس سے سچ نکلوالیتی ہے- اور تم تو جانتے ہو نہ کہ وہ جینیس ہے اور وہ مسٹیریئس بھی ہے- ” زیان نے یہ جملہ جیسے رازدرانہ اندازمیں کہا۔
ظاہر ہےاگر وہ کہ رہی ہے کہ انہیں کچھ نہیں پتا تو نہیں پتا ہوگا۔ تم بھی یہ بات تسلیم کر لو کہ تمہاری تلاش بےکار ہے اس راز کے بارے میں یا تو عنایہ بتا سکتی ہے یا تو اس کا بھوت لیکن عنایہ کی موت کے ساتھ ہی یہ راز بھی دفن ہوگیا ہے۔“زیان نے جیسے وضاحت دینا چاہی - دل سے وہ بھی اداس تھا کہ اتنے دن کی محنت رایئگاں گئی۔
“لیکن۔۔۔۔۔”
لیکن؟ ابھی بھی لیکن؟ یار چھوڑ دو نہ تم بھی نہ عجیب ہو قسم سے-“زیان نے جان چھڑوانے والے لہجے میں کہا
“-شاید تم ٹھیک ہی کہتے ہو وقاص کوکچھ نہیں پتا”
شکر میرے خدایا اس آدمی کے دماغ پر میری بات نے اثر تو کیا” - زیان خوش لگ رہا تھا -وہ آج گھر جا کر کم از کم چین سے تو سوۓ گا نہ ۔
- ٹھیک ہے پھر چلو۔“وہ شخص اٹھ کھڑا ہوا
کہاں؟ گھر؟ فائنلی(آخرکار)۔" زیان کرسی سے اٹھا۔”
نہیں ہم ابھی گھر نہیں جا رہے۔” کچھ تھا اس شخص کے لہجے میں جو زیان کو حیران کر گیا تھا
تو پھر؟ کہاں جا رہے ہیں ہم؟” زیان نے حیرت سے استفسار کیا۔“
”تم نے صحیح کہا کہ عنایہ کی موت کے ساتھ سارے راز دفن ہوگۓ۔ ہم نے اتنی محنت کی، اتنا وقت سرف کیا۔ ہم نے ثبوتوں کو تلاش کرنے میں کوئی کثر نہیں چھوڑی لیکن ہم نے اس شخص سے اس کے بارے میں نہیں پوچھا جو واقعی میں اس بارے میں جانتا ہے
کون؟" زیان کو حیرت ہوئی کہ کون ہے وہ شخص جو اس راز کے بارے میں جانتا ہے۔”
کون ہے وہ؟ تم نے مجھے پہلے اس بارے میں کیوں نہیں کچھ بتا یا؟ آخر کہاں جا رہے ہیں ہم؟" زیان واقعی میں حیرت زدہ لگ رہا تھا- ۔
“سچ کوپھر سے زندہ کرنے۔”
“کیسے؟”
تم نے ہی تو کہا کہ عنایہ کی موت کے ساتھ ہی یہ راز بھی دفن ہوگیا ہے۔ اس راز کے بارے میں یا تو عنایہ بتا سکتی ہے یا تو اس کا بھوت" ۔"
تم اس کے بھوت سے ملو گے؟” زیان نے طنزیہ لہجے میں کہا اور ساتھ ایک قہقہ بلند کیا۔”
“نہیں عنایہ سے۔”
“مطلب؟” زیان کی ہنسی غائب ہو گئی۔
یہ شخص زیان کی سمجھ سے باہر کی کوئی مخلوق تھی۔
(To be continued...)








